کافر کون؟ — Page 263
263 مہدی کے کام کی نوعیت کا جو تصور میرے ذہن میں ہے وہ بھی ان حضرات کے تصور سے بالکل مختلف ہے مجھے اس کے کام میں کرامات و خوارق کشوف والہامات اور چلوں اور مجاہدوں کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔" (تجدید و احیائے دین صفحہ 53-54 اے خالقِ ارض و سما ان ہاتھوں سے سیاہی اور برش تو ہی چھین سکتا ہے ورنہ تو فیض کی زبان میں یہی حال منقش ہے : یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر راہ سیا ہی لکھی گئی یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے 6۔آج تک ایسا ہوگا ایک فرقہ جنتی اور 72 فرقے دوزخی ہونگے۔فرمان نبوی صلی سیستم آنحضور علیہ السلام نے آخری زمانے کے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی وضاحت فرمائی کہ خود مسلمان کہلانے والے بہت سے گروہوں میں بٹ جائیں گے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر سچا کون ہوگا آپ نے فرما یا وہ ایک ہوگا۔چنانچہ فرمان مبارک ہے: ان بنى اسرائيل تفرقت على ثنتى وسبعين ملة وان امتى ستفترق على ثلاث وسبعين مله كلهم في النار الا واحدة قالوا من هي بارسول الله قال ما انا علیہ واصحابی ( ترمذی باب الایمان باب افتراق هذه الامة جلد نمبر 2 صفحه -8-9 ترجمہ: یقینا بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی سوائے ایک کے۔باقی سب ناری ہوں گے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ وہ فرقہ کون سا ہو گا آپ نے فرمایا کہ وہ فرقہ وہ ہوگا جو وہ کام کرے گا جو میں اور میرے صحابہ کر رہے ہیں۔لیکن آج کے بعد میں نہیں مانتا آج سے 72 جنتی اور ایک دوزخی اور دائرہ اسلام سے خارج۔۔۔مخالفین مرزا صاحب کا اعلان جماعت احمدیہ کے سیلاب کے آگے بند بنانے کی خاطر پاکستان اسمبلی حرکت میں آئی اور تمام فرقوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ہم سب 72 مسلمان اور درست ہیں یہ ایک دوزخی اور دائرہ اسلام سے خارج ہے چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو یہ ممتاز کارنامہ پاکستان اسمبلی میں 72 فرقوں کی موجودگی میں انجام دینے کے بعد مند رذیل فخریہ اعلان فرمایا گیا: قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر جو بھی 72 فرقے مسلمانوں کے بتائے جاتے ہیں سب کے سب اس مسئلہ کے حل ( مراد فتوی کفر ) پر متفق اور خوش ہیں۔