کافر کون؟

by Other Authors

Page 246 of 524

کافر کون؟ — Page 246

246 د بعض جھوٹوں نے دعوی نبوت کیا۔جیسا کہ مسیلمہ یمامی۔اسود عنسی وغیرہ نے پس ان میں سے بعض قتل ہو گئے۔اور باقیوں نے تو بہ کر لی اور نتیجہ یہ ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت کا کام چند دن سے زیادہ نہیں چلتا۔“ ( شرح نبر اس صفحہ 444 مطبوعہ میرٹھ) 13۔جھوٹا مفتری علی اللہ کبھی بھی 23 سال کی مہلت پانہیں سکتا۔۔۔حضرت علامہ امام ابن قیم کا مناظرے میں ایک عیسائی کو آپ صلی یا اینم کی صداقت کی دلیل سمجھانا۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ خدا پر 23 سال افتراء کرتا ہے اور پھر بھی خدا اس کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ اس کی تائید کرتا ہے وہ کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔پھر مزید فرمایا کہ ہم اس امر کا انکار نہیں کرتے کہ بہت سے جھوٹے مدعیان نبوت کھڑے ہوئے اور ان کی شان و شوکت بھی ظاہر ہوئی مگر ان کا مقصد کبھی پورا نہ ہوا۔اور نہ ان کو لمبا عرصہ مہلت ملی۔بلکہ خدا نے ان پر فرشتے مسلط کر دیئے جنہوں نے ان کے آثار مٹادیئے اور ان کی جڑیں اکھیڑ دیں اور بنیادوں کو اکھیڑ پھینکا یہی خدا کی اپنے بندوں میں جب سے دنیا بنی اور جب تک دنیا موجود رہے گی سنت ہے۔“ (زاد المعاد جلد 1 صفحہ 500 متر جم رئیس احمد جعفری ناشر نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی طباعت چوہدری طارق اقبال گا هندری) خلاصہ یہ کہ ایک مفتری علی اللہ جو خدا تعالیٰ کی طرف وحی و الہام کے دعوے کو منصوب کر کے اس کی تشہیر کرے 23 سال کا عرصہ پا نہیں سکتا۔اس سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ اس کو ناکام و نامراد بلکہ موت سے ہمکنار کر دے گا اور فرشتے اس کی جڑیں اکھیڑ دیں گے اور وہ چند سال میں غائب و خاسر ہو کر دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور پیچھے اس کا نام صرف مذمت سے لیا جائے گا۔اور یہ 23 سال کا معیار اس لیے ہے کہ آپ صلی یا آیتم 23 سال تک دعوی وحی والہام فرماتے رہے۔یہ جانکاری کے بعد ہم احمدی غیر احمدی کے جنگی میدان میں واپس آتے ہیں۔مرزا صاحب کا چیلنج دیکھو میں 23 سال کا عرصہ پاچکا ہوں خدا مفتری کو ہلاک کرتا ہے جبکہ میں 11 سال سے دعوئی ہم کلام الہی کر رہا ہوں اگر میں جھوٹا ہوتا تو خدا مجھے کبھی مہلت نہ دیتا۔23 سالہ معیار کے حوالے سے بانی جماعت احمدیہ کا چیلنج حضرت مرزا صاحب خدا تعالیٰ کے چیلنج بابت جھوٹے مدعیان وحی والہام کو درج کرتے ہوئے اپنی صداقت کی دلیل یوں بیان فرماتے ہیں: خدا تعالی قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افتراء کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔لیکن اس عاجز کے دعوئی مجددو مثیل مسیح ہوئے اور دعویٰ ہم کلام الہی