کافر کون؟

by Other Authors

Page 18 of 524

کافر کون؟ — Page 18

18 ہوا۔انہوں نے اپنے مکتبہ فکر کا تعارف کروایا۔اس کے جواب میں مجھے جماعت احمدیہ کا تعارف کروانا تھا۔جس کی خاکسار نے بھر پور تیاری کر رکھی تھی جب خاکسار آدھ گھنٹہ سے زائد وقت پر مشتمل جماعت احمدیہ کا تعارف کروا چکا تو مد مقابل 5 افراد پر مشتمل وفد کے امیر (جو اس مکتبہ فکر کے جنرل سیکرٹری بھی تھے ) نے مجھے سے مخاطب ہو کر کہا کہ ایک وادھا ( زیادتی ، خوبی) جو آپ لوگوں میں ہے وہ تو آپ نے بیان نہیں کیا۔خاکسار نے پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ وہ کون سا؟ کہنے لگے۔سرکاری دفاتر میں احمدیوں کا کردار اور ان کا اسلامی تعلیمات پر کار بند ہونا۔وہ رشوت نہیں لیتے ، جھوٹ نہیں بولتے ، وہ وقت پر دفتر آتے ہیں اور دفتری وقت ختم ہونے پر وہ واپس جاتے ہیں۔نمازوں کے اوقات میں وہ نماز پڑھتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ یہ کتاب اسی بات کی عکاسی کر رہی ہے۔کہ ایک احمدی سرکاری طور پر غیر مسلم کہلا کر بھی اسلامی عادات، حرکات کا حامل ہے اور ایک مسلمان سرکاری طور پر مسلمان کا لیبل لگا کر بھی غیر اسلامی حرکات و سکنات کے عادی نظر آتے ہیں جن کی آئے روز خبریں اخبارات کی زینت بنتی نظر آتی ہیں۔مکرم اصغر علی بھٹی 29 دسمبر 1969ء کو سانگلہ ہل میں چوہدری محمد صدیق بھٹی صدر جماعت احمد یہ مرڑھ چک 45 کے گھر پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم سانگلہ ہل سے حاصل کرنے کے بعد 1985ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخلہ لیا اور 1991ء میں شاہد کی ڈگری کے ساتھ جامعہ کی تعلیم مکمل کی۔جامعہ کے فوری بعد آپ کو مانسہرہ میں وادی ہزارہ کے پہلے مستقل مربی ضلع کے طور پر متعین کیا گیا۔یہاں آپ 10 سال تک متعین رہے۔اس دوران ایک دفعہ خود اسیر راہ مولا بن کر مانسہرہ ، ایبٹ آباد کی حوالا تیں، جیلیں اور عدالتیں کاٹیں تو دوسری طرف بیبیوں اسیران راہ مولا کی خدمت کی توفیق پائی۔ہری پور میں وادی ہزارہ کی پہلی مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر میں خدمت کی توفیق پائی۔جس کی افتتاحی تقریب میں بھی شمولیت کا موقع ملا۔ابھی آپ کی واہ کینٹ میں تقرری کو چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ مرکز کی طرف سے بین Benin مغربی افریقہ کے لئے روانگی کا ارشاد ہوا۔10 جولائی 2001ء میں آپ دیگر 2 مربیان کے ہمراہ بینن کے شہر پورتونو ووPorto novo میں وارد ہوئے۔اگلے ہی ماہ بینن کے نارتھ میں واقع نو مبائع صوبہ کولنز Collenes کی ذمہ داری آپ کو تفویض ہوئی جس کے لئے آپ نے ایک چھوٹے سے گاؤں توئی Toui کا انتخاب کیا اور پھر اس بجلی پانی سے آزاد گاؤں میں 3 سال تک دھونی رمائے بیٹھے رہے۔