کافر کون؟

by Other Authors

Page 17 of 524

کافر کون؟ — Page 17

17 پر جماعت احمدیہ کے موقف پر تھا۔مجھے کتاب کا عنوان تو پہلی نظر سے ہی بہت پسند آپ کا تھا۔جوں جوں میں آگے بڑھا۔ایک مولوی کا اندرونہ ظاہر وباہر ہوتا گیا کہ یہ تحفظ ختم نبوت کا لبادہ اوڑھ کر کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔اسی زبان سے تحفظ ختم نبوت کا ذکر کرتے کرتے ان کی زبا نہیں نہیں تھکتی اور اسی زبان سے حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی یا کیزہ تعلیمات کے برعکس ایک دوسرے کو کفر کے فتوے دینا، گندی گالیاں نکالنا اور مزے لے لے کر انسانوں کے نفسانی جذبات کو ابھارنے کے لئے جتن کرنا ان کا شیوہ حیات بن چکا ہے۔یہ نو جوان مربی نے جس کے بالوں میں اب چاندی کے آثار نظر آتے ہیں اپنی اس تاریخی کاوش میں ایک نو مبائع جناب فریدون خان جدون کے احمدیوں کے بارے میں علمائے اسلام کے خیالات ، جذبات ضبط تحریر میں لائے ہیں۔جنہوں نے ایک اسیر راہ مولا سے ملاقات کی جس کی پرسکون آنکھوں نے انہیں احمدیت کے بارے میں مزید سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ احمدیوں کو کافر کہتے ہیں اور ان کے اپنے اعمال غیر اسلامی ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف نہ صرف گندی بلکہ لچر زبان استعمال کرتے ہیں۔ایسی لچر کہ اس کو تحریر میں لاتے انسان کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔خاکسار نے خود برادرم مکرم اصغر علی بھٹی سے مشورہ کر کے اکثر ایسی تحریرات علماء سوء کی زبانی اس مسودہ سے حذف کروا دیں جو اخلاقیات سے گری ہوئی تھیں اور جن کو ایک باغیرت مسلمان برداشت تو در کنار پڑھ بھی نہیں سکتا۔جناب فریدون خان جدون نے اپنی تحقیق کے سفر میں احمدیت کو پہلے سے بڑھ کر سچا پایا اوران کا اعتقاد احمدیت پر اس لئے بڑھتا گیا کہ یہ دوسرے 72 فرقوں کے مسلمانوں سے اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کے حوالے سے بہت بہتر ہیں۔آپ کے اس قضیہ میں مجھے اپنے ساتھ بیتا ہوا ایک سچا واقعہ یاد آ رہا ہے۔میں لاہور میں بطور مربی ضلع خدمت بجالا رہا تھا۔ایک دن مجھے ایک ایسے گروہ کے جنرل سیکرٹری نے فون پر ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی جو جماعت اسلامی سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدہ ہو گیا تھا۔اور اپنی تشہیر، رسالہ، کتب اور مرکز کی وجہ سے ایک نام پیدا کر چکا تھا۔یہ نومبر 1993 ء کی بات ہے اب تو وہ انٹرنیشنل طور پر اپنا کردار نبھا رہے تھے۔وہ مجھ سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب لینا چاہتے تھے۔صبح 10 بجے کا وقت مقرر