کافر کون؟ — Page 158
158 محافظین ختم نبوت کا طر ز تبلیغ اردوڈائجسٹ مارچ 1976ء) مشکل نمبر 32 سیاسی حربے کے ساتھ ساتھ جو ملی طور پر تبلیغ کا راستہ اختیار کیا گیا تا کہ جلد سے جلد تمام احمدی بھائی حلقہ بگوش اسلام ہو جا ئیں وہ بھی شاید بڑا پاکیزہ تھا۔ماضی میں اس کی مثال کہاں اور کس صدی میں ملتی ہے اس کی تحقیق کرنا ہر صاحب ایمان اور رحمتہ للعالمین کے غلاموں پر فرض ہے۔سر دست اس شاندار اسلامی تبلیغی خدمت کی صرف چند جھلکیاں۔$1974 1 - ترجمان اہل سنت (کراچی) تحریک ختم نبوت 1974 ء کا فخر یہ ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔جون 1974 ء میں قومی اسمبلی کا اپنا کام جاری رہا اور اسی دوران ایک وقت آیا کہ جب مسلمانوں نے احمدیوں کا ایسا زبردست سوشل بائیکاٹ کیا کہ بعض مقامات پر کئی کئی دن تک ان کو ضروریات زندگی تک سے محروم رکھا۔تحریک کی اس کفیت کا خاصا اثر رہا۔(شمارہ اکتوبر 74 صفحہ 7) 2- آغا شورش کا شمیری مندرجہ بالا اقدام کی ترجمانی کرتے ہوئے فخریہ فرماتے ہیں: ر بوہ کی ناکہ بندی ہو چکی ہے۔مسلمان کسی قادیانی کے ہاتھ کوئی چیز فروخت نہیں کرتے اور نہ ان سے کوئی چیز لیتے ہیں“۔بلکہ مزید اطلاعاً فرماتے ہیں: تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل نے (احمدیوں کے خلاف تحریک میں توانائی پیدا کر دی ہے ( یعنی ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ کوئی سرکاری یا غیر سرکاری شخص مرزائیت کی بلاواسطہ تو کیا بلواسطہ حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔کراچی سے پشاور تک (ان کے خلاف ) جلسہ ہائے عام منعقد کئے جارہے ہیں۔( روز نامچہ 29 جولائی 74 بحوالہ چٹان 7 ستمبر 74ء ) ( روز نامچہ یکم جولائی 74 ء ) گو یا احمدیوں کے خلاف قومی اسمبلی کا فیصلہ کسی آزاد ماحول میں نہیں شدید دباؤ کے تحت کیا گیا نیز اسلام کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔