کافر کون؟ — Page 159
159 -3 شاندار تبلیغ کا سفر مسلسل جاری ہے۔اس وقت ہم 1997ء میں وادی ہزارہ کے ایک گاؤں دانہ میں کھڑے ہیں۔علماء دین حضرات بہت غصے اور طیش میں ہیں۔ہو سکتا ہے کہ گاؤں میں کسی نے نماز نہ پڑھی ہو چوری کی ہو۔زنا یا ڈاکہ مارا ہو۔کسی کا مال ضبط کیا ہو گینگ ریپ یا کوئی گھناؤنی واردات ہو گئی ہو۔شراب پی ہو رشوت یا سمگلنگ کی ہو۔نشہ ہیروئین چرس بیچتا ہو۔یا کہیں بے گناہ بچوں کو مسجد میں نماز پڑھتے بم پھینک کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا گیا ہولیکن ؛ لیکن ایسی واردا تیں تو وطن عزیز کے روزمرہ پروگرام میں تسلسل کے ساتھ ہوتی رہتی ہیں۔روزانہ کے اخبارات ہمیں ایسی معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں لیکن کبھی کسی گاؤں ،شہر یا محلہ کے علماءدین کو اتنا بر ہم نہیں دیکھا پھر کیا ہو سکتا ہے؟ یا اس سے بھی بڑی گھناؤنی اور مکروہ حرکت سرزد ہو گئی ہے جی ہاں حرکت ہی ایسی ” قابل شرم ہے اس لیے علماء کا غصے میں آنا فطری بات ہے۔آئیے دھما کہ خیز قابل شرم واقعہ کا پتہ لیتے ہیں۔واقعہ یوں ہوا کہ ضلع مانسہرہ میں دانہ گاؤں جو دور دراز پہاڑی سلسلے کے اندر شاہراہ ریشم سے کوئی 8 کلو میٹر دور واقع ہے۔اس میں موجود چند احمدی گھروں کا علماء دین نے مکمل سوشل بائیکاٹ کر واد یا کہ آئندہ نہ کوئی شخص انہیں گاڑی پر بٹھائے گا اور نہ سودا سلف دے گا اور نہ بات چیت کرے گا اور نہ کوئی دوسرا لین دین کرے گا۔یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا۔چھوٹے چھوٹے بچے میلوں پہاڑی سفر پیدل طے کر کے سکول آتے جاتے رہے۔بوڑھے ضعیف والدین تمام ضروریات زندگی اپنی کمروں پر لاد کر پہاڑوں کے اونچے نیچے راستوں پر رواں دواں رہے۔گاؤں کے باقی مسلمان لوگ ان پیدل ضعیف لوگوں کے پاس سے گاڑیوں میں سوار گزرتے مذاق اڑاتے رہے۔وقت کا بے رحم پہیہ یونہی 4 سال تک چلتا رہا۔آخر ایک دن ضلعی انتظامیہ کو خبر ہوئی۔علاقے کا تھانیدار گاؤں میں آیا اس نے لوگوں کو بلا کر سمجھایا کہ ایسا ظلم نہ کرو یہ غیر اسلامی حرکت ہے اور تم تو مرحمة للعالمین کے ماننے والے ہو جو انسانوں تو کجا جانوروں کے لیے بھی رحمت ہے۔پس علماء دین بگڑ گئے اور اس عظیم دینی کام میں مداخلت ہی آپ کے غصے اور طیش کا موجب بن گئی۔ایبٹ آباد میں شائع ہونے والا 11 مئی 97ء کا اخبار روز نامہ شمال میرے سامنے ہے۔علماء دین کے مذکورہ واقعہ کے خلاف بیانات ملاحظہ ہوں۔دا تا میں مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ ختم کرانے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔مرزائیوں کو سوز وکیوں میں بٹھایا جائے ان سے لین دین کیا جائے ایس ایچ او تھانہ صدر مانسہرہ کے فرمودات