کافر کون؟

by Other Authors

Page 157 of 524

کافر کون؟ — Page 157

157 کہ کسی نہ کسی طریقے سے خواجہ ناظم الدین کی وزرات عظمی کو ختم کیا جائے۔پنجاب میں ایسے سیاستدان تھے جو اس کوشش میں تھے کہ مولویوں کو اکسا کر خواجہ ناظم الدین کو ختم کیا جائے۔اس موقعہ پر پہلی مرتبہ ( وطن عزیز میں ناقل ) ہم نے اسلام کو بطور سیاسی حربے کے استعمال کیا۔1974 ء اسلام پھر سیاسی حربے کے طور پر : (صفحہ 142) جناب حسین نقی روز نامہ دی نیوز“ کے سابق ایڈیٹر اور ممتاز اخبار نویس 1974ء کی تحریک ختم نبوت کا تجزیہ یوں پیش کرتے ہیں: دوختم نبوت تحریک میں احراریوں نے ایک سیاسی حکمت عملی کے ماتحت قادیانیوں کو ہدف بنایا۔پیپلز پارٹی اور بھٹو مرحوم دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سوسالہ پرانا ( قادیانی مسئلہ حل کر دیا۔انہوں نے کوئی مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ مسئلے کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اب پاکستان میں ہر فرقے کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے اور ہر فرقہ اس بناء پر ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہا ہے۔74ء کی ختم نبوت تحریک میں اسلام حربے کے طور پر : 74 کی تحریک ختم نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرزند اقبال فرماتے ہیں: قومی ڈائجسٹ لاہور مارچ 95 ء ) (74ء میں ) ساری اپوزیشن نے بھٹو کو ہٹانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ اسلام کو خطرے میں ڈال دیا۔حالانکہ آج تک اسلام خطرے میں نہیں ہوا۔آپ کو یاد ہوگا کہ بھٹو نے گھوڑ دوڑ اور شراب بند کر دی۔احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا سو انہوں نے اپنی طرف سے یوں اسلام نافذ کیا وہ اپنا اقتدار بچانے کی خاطر سب کچھ کرتے چلے گئے۔آپ دیکھ لیں کہ اسلام کو کیونکر حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے“۔74ء کی ختم نبوت تحریک بادشاہ وقت نے خود سیاسی فوائد کے لیے اٹھائی: ( یا دیں صفحہ 146 ) جناب الطاف حسین قریشی مدیر اردو ڈائجسٹ جیسے کہنہ مشق صحافی اس تحریک کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے (1974ء) میں یہ اقدام سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے اٹھایا تھا۔کچھ باخبر حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کے مواقع مسٹر بھٹو نے ہی فراہم کئے“۔