کافر کون؟ — Page 154
154 شیعت۔۔۔احمدیت سے بھی بُری دیوبندی عالم دین مولا نا بنوری شیعہ اور احمدی اسلام کے فرق کو یوں دیکھتے ہیں : قادیانی نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کلمہ گو ہیں بلکہ انہوں نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنے طریقے پر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا جو کام خاص کر یورپ اور افریقی ممالک میں کیا۔اس سے باخبر حضرات واقف ہیں پھر ان کا کلمہ ان کی آذان اور نماز وہی ہے جو عام امت مسلمہ کی ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ان کے فقہی مسائل قریب قریب وہی ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں۔لیکن۔۔۔۔۔اثنا عشریہ (شیعہ ) کا حال یہ ہے کہ: ان کا کلمہ الگ ہے۔ان کا وضو الگ ہے۔ان کی نماز اور اذان الگ ہے۔زکواۃ کے مسائل بھی الگ ہیں۔نکاح اور طلاق وغیرہ کے مسائل بھی الگ ہیں۔حتی کہ موت کے بعد کفن دفن اور وراثت کے مسائل بھی الگ پرویزیت۔۔۔احمدیت سے بھی بری وکیل ختم نبوت جناب مولانا یوسف لدھیانوی صاحب پرویزیت اور جماعت احمدیہ کا تقابلی جائزہ کرنے کے بعد یہ اعلان کرتے ہیں: انگریز کے عہد نخوست میں جو تحریکیں اسلام کو مسخ ومحرفت کرنے کے لیے اٹھیں انمیں سب سے پہلی تحریک نیچریت کی ہے۔پھر ایک طرف قادیانیت۔دوسری طرف چکڑالویت نے انکار حدیث کا فتنہ برپا کیا اس کے بعد خاکسار تحریک نے سر اٹھایا اور پھر ان سب تحریکوں کا سڑا ہوا ملغوبہ مسٹر پرویز کے حصہ میں آیا اور ان سب پر کمیونزم کا پورا معاشی ڈھانچہ اور اس کی مذہب بیزاری۔نیچریت کی مادہ پرستی۔قادیانیت کا انکار۔چکڑالویت کا انکار سنت۔خاکساروں کی تحریف و تاویل سب خرابیاں یکجا موجود ہیں اور مسٹر پرویز کے قلم کی روانی نے ان غلاظتوں میں اور اضافہ کر دیا۔مسٹر غلام احمد پرویز بد قسمتی سے ہم وطن بھی اور الحاد وزندقہ میں اس کا ہم مسلک بھی“۔ہفت روزہ ختم نبوت 18 تا 24 دسمبر 1992 صفحہ 13 |