کافر کون؟ — Page 155
155 جماعت اسلامی۔۔۔احمدیت سے بھی بری مشہور بریلوی عالم دین مولانا ارشد القادری ایڈیٹر جام نور جمشید پور جماعت اسلامی اور جماعت احمدیہ کے محاسن کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد یہ اعلان فرماتے ہیں جماعت اسلامی جن لوگوں کو اسلام سے قریب تر کرتی ہے وہ ہزار بگڑنے کے باوجود کسی نہ کسی نہج سے اسلام کے ساتھ بہر حال کوئی تعلق رکھتے تھے لیکن قادیانی جماعت کا لٹریچر مغرب کے عیسائیوں کو جو اندر سے لے کر باہر تک اسلام کے غالی دشمن اور حریف ہیں۔انہیں اسلام سے قریب ہی نہیں کرتا اپنے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھواتا ہے۔( جماعت اسلامی صفحه 104 شائع کر دو نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی کچا رشید روڈ بلال سنج پرویزیت۔۔۔احمدیت سے بھی بری جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے مولوی شیخ الحدیث عبد المالک صاحب پرویزیت اور احمدیت کا تقابلی جائزہ اس طرح سے پیش کرتے ہیں: غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکار قادیانیوں سے بھی بڑے کا فر ہیں۔اس لئے کہ وہ اپنا مرکز مسجد کے نام سے بناتے ہیں اور نمازوں اور جماعتوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں لیکن یہ لوگ تو مسجد اور نمازوں سے بھی دور ہیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے اس طرح دور کر رکھا ہے جس طرح خبیث طیب سے الگ ہوتا ہے اور ابھی تک ان کے پاس کسی بھی شہر میں کوئی مسجد نہیں جو ان کا مرکز صلاۃ و اجتماع ہو (فتنہ پرویزیت ملت اسلامیہ کے خلاف استعماری سازش ص 187 ، شیخ الحدیث عبد المالک جامعه مرکز اسلامیہ منصورہ لاہور ) غیر مقلدیت۔۔۔احمدیت سے بھی بری جماعت احمدیہ کے ابتد کی شدید مخالف مولوی غیر مقلد مولوی ثناء اللہ صاحب فرماتے ہیں ”اسلامی فرقوں میں خواہ کتنا ہی اختلاف ہو مگر آخر کار نقطعہ محمدیت پر جو درجہ والذین معہ کا ہے سب شریک ہیں اس لئے گوان مین سخت با ہمی شقاق ہے مگر اس نقطعہ محمدیت کے لحاظ سے ان کو رحماء بینھم ہونا چاہیئے۔مرزائیوں کا سب سے زیادہ مخالف میں ہوں مگر نقطعہ محمدیت کی وجہ سے ان کو بھی اس میں شامل سمجھتا ہوں“ (اخبار اہل حدیث امرتسر 16 اپریل 1915 بحوالہ الھد کی انٹر نیشنل کیا ہے مولفہ مفتی محمد اسمعیل طور و شعبه نشر و اشاعت و شعبه دار الافتاء جامعہ اسلامیہ صدر کامران مارکیٹ راولپنڈی ص 140) جاوید غامدی۔۔۔احمدیوں سے بھی برے جماعت اسلامی میں مولوی جاوید غامدی کے سابقہ دوست اور بچپن کے قریبی ساتھی ان کے علم کلام کا جائزہ