کافر کون؟ — Page 123
123 عام مجددین اور ارباب ولایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ برا نہیں ہو سکتے تھے۔جب تک کہ نبوت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔بلکہ محض نبوت کی قوت بھی اس وقت تک موثر نہ تھی جب تک کہ اس کے ساتھ ختم نبوت کا پاور شامل نہ ہو۔تو پھر شکست دجالیت کی صورت بجز اس کے اور کیا ہوسکتی تھی اس دجال اعظم کو نیست و نابود کرنے کے لیے امت میں ایک ایسا خاتم المحجد دین آئے جو خاتم النبین کی غیر معمولی قوت کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہو اور ساتھ ہی خاتم النبین سے ایسی مناسبت تامہ رکھتا ہو کہ اس کا مقابلہ بعینہ خاتم النبین کا مقابلہ ہو۔مگر النہ یہ بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کی روحانیت کا انجذاب اسی مجدد کا قلب کر سکتا تھا جو خود بھی نبوت آشنا ہو۔محض مرتبہ ولایت میں ہی قتل کہاں کہ وہ درجہ نبوت بھی برداشت کر سکے چہ جائیکہ ختم نبوت کا کوئی انعکاس اپنے اندر اتار سکے۔نہیں بلکہ اس انعکاس کے لیے ایک ایسے نبوت آشنا قلب کی ضرورت تھی جو فی الجملہ خاتمیت کی شان بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔تا کہ خاتم مطلق کے کمالات کا عکس اس میں اتر سکے۔۔۔اس کی صورت بجز اس کے اور کیا ہوسکتی تھی کہ انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کو جو ایک حد تک خاتمیت کا شان رکھتا ہو اس امت میں مجدد کی حیثیت سے لایا جائے“۔( تعلیمات اسلامی اور مسیحی اقوام صفحہ 228-229 از قاری محمد طیب مہتم دارالعلوم دیوبند پاکستانی ایڈیشن اول مطبوعہ مئی 1986 ء شائع کردہ نفیس اکیڈیمی ) 4۔صرف نئی شریعت لانے والی نبوت بند ہو گئی۔مگر امتی نبی تجدید شریعت کے لیے آسکتا ہے۔اہل سنت بریلوی مکتبہ فکر کا مذہب پاکستان کی مشہور پبلشر کمپنی فیروز سنز نے ”ابن عربی کے نام سے اہل السنتہ بریلوی مکتبہ فکر کے مسلمہ بزرگ عالم حضرت محی الدین ابن عربی کے بارے میں کتاب شائع کی ہے۔اس کتاب کے صفحہ 39 پر ختم نبوت و ختم رسالت کے حوالے سے درج ذیل ختم نبوت کی تفسیر مفہوم درج ہے: ابن عربی نبوت ورسالت کو مد رسول اللہ العالیہ ہم پر ختم سجھتے ہیں مگر صرف بحیثیت نبوت تشریعی ، یعنی اب ان کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی مگر ایسا نبی آسکتا ہے جو ان کی لائی ہوئی شریعت کی تجدید کرے۔اس نبی کا اکتساب ذاتی اور بلا واسطہ نہیں ہوتا بلکہ رسول اللہ کے واسطے ہوتا ہے“۔چند صفحے آگے چل کر صفحہ 51 پر مزید فرمایا: نبوت غیر تشریعی رسول اللہ کے بعد جاری رہے گی بلکہ رسول اللہ کی امت میں اولیاء اللہ کوبھی الہام ہوتار ہا ہے۔( مصنفہ ابوجاوید نیازی شائع کردہ فیروز سنز پاکستان )