کافر کون؟ — Page 101
101 وہ کون سے دلائل ہیں جن کا جماعت احمدیہ کے پاس کوئی جواب نہیں ؟ وہ کون ساحر بہ جس نے ساٹھ ستر سال سے جاری اس جنگ کا اچانک پانسہ پلٹ کر رکھ دیا؟ آپ نے اپنی اس شاہکار کتاب میں آنے والے کا عقیدہ اور اس کی پیشگوئی کے نام سے ایک ذیلی عنوان جمایا ہے اور اس کے تحت جو گل افشانی کی ہے وہی میری آٹھویں مشکل بن گئی ہے۔حیات و نزول مسیح کی بحث ایمان تو کجا یہ عقیدہ ہی ہم نے پارسیوں اور یہودیوں کو دیکھ کر گھڑلیا ہے۔۔۔۔۔۔غلام احمد پرویز صاحب آپ فرماتے ہیں: یہودیوں نے کہا کہ ایک مسیحا آئے گا جو ان کی تمام مصیبتوں کو حل کر دے گا۔عیسائیوں نے کہا کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں وہ آخری زمانے میں آئیں گے۔۔۔ہند و آخری زمانے میں کلگی اوتار کے منتظر ہیں۔بدھ مت کے پیر و میتا بدھ کے منتظر۔مجوسی بھی عیسائیوں کی طرح اپنے نبی متھرا کو زندہ آسمان پر تصور کرتے ہیں اور آخری زمانے میں اس کی آمد کے منتظر ہیں“۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ ان مذاہب کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی ایک عقیدہ گھڑ لیا چنانچہ ان کا بیان خود پڑھئے۔لیکن ہم نے دوسرے مذاہب کی طرح اپنے ہاں بھی آنے والے کا عقیدہ وضع کر لیا۔ہر صدی کے آخر ایک مجدد آخری زمانہ میں امام مہدی اور ان کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے حضرت عیسی۔جماعت احمدیہ کے خلاف یہ آخری دلیل کیسی ہے ؟ جس کے لئے 1500 سو سالہ اسلامی لٹریچر کا یکسر انکار ضروری ہے۔یہی جانکاری میری آٹھویں مشکل بن گئی۔دوستو ! اک نظر خدا کے لیے دوستوں! یہاں کچھ دیر کے لیے رک کر اگر جماعت احمدیہ کے مخالف کیمپ کے موقف کو دوبارہ پڑھ لیا جا تو اس کیمپ سے بھاگنے والوں کی جھنجھلاہٹ کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔حضرت عیسی کے آسمان سے نازل ہونے کا عقیدہ نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کی طرح متواتر اور قطعی ہے اس لیے اس کے منکر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔تعلیم القرآن نومبر 1966 ، صفحہ 21 ) ساتھ ہی ساتھ اس فتویٰ کو بھی پڑھ لیں تا کہ انتظامات کرنے میں آسانی ہو سکے کہ ہم نے اپنے ہی کیمپ کے کتنے ممتاز علماء اور کتنے کروڑوں مسلمانوں کو قتل کرنا ہے۔