جوئے شیریں — Page 77
ساتھ رشتے پر پھیلائے۔سایہ رحمت ہر کمر پر تھا عشق خدا مونہوں پر دستے، پھوٹ رہا تھا نور۔نظر سے اکھین سے ئے پیت کی برسے۔قابل دید۔ہر دیدہ ور تھا لیکن آہ جو رستہ سکتے۔جہان سے گزرے تجھ کو ترستے کاش دو زندہ ہوتے جن پر ہجر کا اک اک پل دو بھر تھا آخر دم تک تجھ کو پکارا۔آس نہ ٹوٹی ، دل نہ ہارا مصلح عالم باپ ہمارا۔پیکر صبر و رضا، امیر تھا سدا سہاگن رہے یہ بستی۔جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی جس سے نور کے سوتے پھوٹے۔جو ٹوروں کا اک ساگر تھا ہیں سب نام خدا کے شندر - وا ہے گرو - الله اكبر سب خانی۔اک وہی ہے باقی۔آج بھی ہے جو کل ایشر تھا ہم کو قادیاں ملے ہیں ، لوگ وہ بھی چاہتے ہیں دولت جہاں ملے زمیں ملے۔مکاں ملے۔سکون قلب و جاں ملے پر احمدی وہ میں کرتین کے جب دعا کو ہاتھ اُنھیں۔آپ آپ کے یوں کہیں کہ ہم کو قادیاں ملے غضب ہوا کہ مشرکوں نے ثبت کد سے بنائیے خدا کے گھر۔کہ درس وحدت خدا جہاں ملے چلے چلو۔تمہاری راہ دیکھتی ہیں مسجدیں دہ منتظر ہیں خانہ خدا سے پھر اذاں ملے