جوئے شیریں

by Other Authors

Page 76 of 107

جوئے شیریں — Page 76

چاروں اور بچی شہنائی۔بھیجنوں نے اک دُھوم مچائی رت بھگوان مکن کی آئی۔پیتیم کا درشن گھر گھر تھا گو تم بد تھا پڑھی لایا۔سب رشیوں نے درس دکھایا علی اترا مہندی آیا جو سب نبیوں کا مظہر تھا مہدی کا دیدار محمد نبیوں کا سردار محمد نور نظر سرکار محمد۔جس کا وہ منظور نظر تھا آشاؤں کی اُس بستی ہیں۔میں نے بھی فیض اُس کا پایا مجھ پر بھی تھا اُس کا چھایا۔جس کا میں ادنی چاکر تھا اتنے پیار سے کسی نے دی تھی میرے دل کے کواٹر پر دستک رات گئے میرے گھر کون آیا۔اٹھ کر دیکھا تو ایسٹر تھا ریش سے فرش پر مایا اتری۔روپا ہوگئی ساری دھرتی میٹ گئی گلفت چھا گئی مستی۔وہ تھا میں تھا من مندر تجھ پر میری جان نچھاور - اتنی کر پا رک پاپی پر تھا جس کے گھر نارائن آیا۔وہ کیڑی سے بھی کمتر تھا رب نے آخر کام سنوارے۔گھر آئے پر ہا کے مارے آ دیکھے اونچے مینارے۔نور خدا تا حد نظر تھا کولا نے وہ دن دکھلائے۔پریمی رُوپ نگر کو آئے