جوئے شیریں — Page 66
42 سازندہ تھا یہ اس کے برب ابھی تھے بہت اُس کے دمن اس کی تھی گیت اُس کے لب اسکے پیام اس کا اک میں بھی تو ہوں یا رب۔حیدر تبر داہم اس کا دل گاتا ہے گن اُس کے اب پچھتے ہیں نام اُس کا آنکھوں کو بھی دکھلائے۔آنالب بام اُس کا کانوں میں بھی درس گھولے۔بزرگام - خرام اس کا خیرات ہو مجھ کو بھی۔اک جلوہ عام اُس کا پھر یوں ہو کہ نہ دن پر۔الہام کلام اُس کا اس بام سے نور اترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اُٹھے خوش ہو۔ہو جائے نمرود عنبر آسے شاہ کمی و مدنی سیداوری أن شاء مکی و مدنی سید انوری تجھ سا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا تیرا غلامی در تیوں تیرا ہی اسیر عشق تو میرا بھی حبیب ہے ، محبوب کبریا تیرے جلو میں ہی مرا اٹھتا ہے ہر قدم چلتا ہوں خاک پا کو تیری چھوتا ہوا تو میرے دل کا نور ہے آے جان آرزو روشن تجھی سے آنکھ ہے اے نیر پائی میں جان و جسم ، سو تری گلیوں پہ ہیں نثار اولاد ہے، سو وہ ترے قدموں پہ ہے خدا تو وہ کہ میکے دل سے جگر یک اُتر گیا میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے تیرے ہوا اے میرے والے مصطفی اے سید انور تھی اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا