جوئے شیریں — Page 67
آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے برسے ہے شرق و غرب پر یکساں ترا گرفتم تو مشرقی نہ مغربی اسے خورشش جہات تیرا وطن عرب ہے نہ تیرا وطن نجم تو نے مجھے خرید یا اک نگہ کے ساتھ اب تو ہی تو ہے تیرے ہوا میں ہوں کا تقدیم ہر لحظہ بڑھ رہا ہے میرا تجھ سے پیار دیکھے بانسوں میں پس رہا ہے تیرا عشق رقم یکہ تم بک میری ہر ایک راہ تیری سمت ہے رواں تیرے سوا کسی طرف اٹھا نہیں قدم اے کاش مجھ میں قوت پرواز ہو تو میں اُڑتا ہوا پڑھوں ، تری جانب سُوئے حریم تیرا ہی فیض ہے کوئی میری عطا نہیں " این چشمہ رواں کہ تخلق خدا دیم یک قطره زیر کمال محمد است حبان و دکم فدائے جمال محمد است خاکم بشار کوچه آلِ محمد است