جوئے شیریں

by Other Authors

Page 65 of 107

جوئے شیریں — Page 65

44 جمہوری انبیاء صلی الہ علیہ وسلم۔اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر شکل ظلمات پر دار آئی تاریکی پر تاریکی، گمراہی پر گمراہی ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی طوفان مفاد میں غرق ہو گئے سنجر وبر ایرانی و نادانی رومی و بخارائی بن بیٹھے خدا بند سے دیکھا نہ مقام اُس کا طاغوت کے چیلوں نے بہتھیا لیا نام اس کا تب عرش معلی سے اک نور کا تخت اترا ایک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی اک ساعت نورانی خورشید سے روشن تر پہلو میں لئے جلوے بے حد و شمار آئی کا فور ہوا باطل ، سب فلم ہوئے زائل اُس شمس نے دکھلائی جب شان خود آرائی اہیں ہوا غمارت، چوپٹ ہوا کام اُس کا توحید کی یورش نے در چھوڑا ، نہ بام اُس کا مرزائے غلام احمد تھی جو بھی متابع جان کر بیٹھا تیار اس پر۔ہو بیٹھا تمام اُس کا۔دل اُس تھا دل اُس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اس کا اخلاص میں کامل تھا وہ عاشق تام اُس کا اس دور کا پیساتی - گھر سے تو نہ کچھ لایا کے خانہ اُسی کا تھا۔کے اُس کی تھی جام اُس کا