جوئے شیریں — Page 33
۳۳ آسماں میرے لئے تو نے بنا یا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک وتار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار وہ لغو دیں ہے جس میں فقط قصہ جات ہیں ان سے رہیں الگ جو سعید الصفات میں صد حیف اس زمانہ میں قصوں پہ ہے مدار قصوں پر سارا دیں کی سچائی کا انحصار پر تفتقد معجزات کا کچھ بھی نشاں نہیں پس یہ خُدائے قصہ خدا نے جہاں نہیں دنیا کو ایسے قصوں نے یکسر تباہ کیا مشرک بنا کے گھر دیا، روسیہ کیا جس کو تلاش ہے کہ ملے اس کا کردگار اس کے لئے حرام جو قصوں پر ہونشار