جوئے شیریں — Page 34
اس کا تو فرض ہے کہ وہ ڈھونڈے خُدا کا نور تا ہو دے شک وشبہ بھی اس کے دل کا دور تا اس کے دل پہ نور یقیں کا نزول ہو تا وہ جناب عز و جبل میں قبول ہو وہ رہ جو ذات عز وہیل کو دکھاتی ہے وہ رہ جو دل کو پاک و مظہر بناتی ہے وہ کہ جو یار گمشدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے وہ رہ جو جام پاک یقین کا پلاتی ہے وہ تازہ قدرتیں جو خدا پر دلیل ہیں وہ زندہ طاقتیں جو یقیں کی سبیل ہیں اس بے نشاں کی چہرہ نمائی نشاں سے ہے پیچ ہے کہ سب نبوت سچائی نشاں سے ہے وہ خدا آپ بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم آپ بھی اس سے بولتا ہے میں کچھ کہتا ہے پیار