جوئے شیریں — Page 32
آسماں پر دعوتِ حق کے لئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی تا گاہ زندہ وار یہ اگر انساں کا ہوتا کاروبار ائے ناقصاں ایسے کاذب کے لئے کافی تھا وہ پروردگار کچھ بھی حاجت تمہاری نے تمہارے کمر کی خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہریار پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ورز اُٹھ جائے اماں پھر نیچے ہو دیں شرمسار اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمہیں کچھ ڈر نہیں کرتے ہو کیوں بڑھ بڑھ کے گار سر طرف آواز دیتا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار