جوئے شیریں

by Other Authors

Page 31 of 107

جوئے شیریں — Page 31

۳۱ پھر یہ عجیب غفلت رب قدیر ہے دیکھے ہے ایک کو کہ وہ ایسا شریر ہے پچیس سال سے ہے وہ مشغول انتہا سردان ہر ایک رات یہی کام ہے رہا پھر بھی وہ ایسے شوخ کو دیتا نہیں سزا گویا نہیں ہے یاد جو پہلے سے کہہ چکا کیا وہ خدا نہیں ہے جو فرقاں کا ہے خدا پھر کیوں وہ مفتری سے کرے اس قدر وقا کوئی بھی مفتری ہمیں دنیا میں آپ دکھا جس پر یہ فضل ہو یہ عنایات یہ عطا جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اسے روبہ زار و نزار کیوں مجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر سیح خورد مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ یاد بسیار