جوئے شیریں — Page 30
I راک قطرہ اس کے فضل نے دریا بتا دیا میں خاک تھا اُسی نے جھریا بنا دیا میں تھا غریب و بیکس و گنام دبے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی منتظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی آپ دیکھتے ہو کیسا جویا جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا لغت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اسکی جناب میں توریت میں بھی نیت کلام مجید میں لکھا گیا ہے رنگ و عید شہید میں کوئی اگر خدا پر کرے کچھ بھی افترا ہو گا وہ قتل ہے یہی اس مجرم کی سزا