جوئے شیریں — Page 29
دلائل صداقت حضرت یح موعود آپ پر لاتی ہوں اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر غار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو کہ چہ چاکس قدر ہے ہر کنار اُس زمانہ میں خدا نے دی تھی شہرت کی خیر جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مرو به روزگار اب ذرا سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امر یہاں پر کسی بشر کو اقتدار دیکھو خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا گمنام پا کے شہرہ عالم بنا دیا جو کچھ مری مراد محنتی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا