جذبۃ الحق — Page 16
16 مولوی صاحب آپ کو معلوم کہ یہاں آپ لوگوں کو بکیوں بلایا گیا ہے۔مولوی نذر کو رنے نفی میں اس کا جواب دیا۔تب میں نے کہا کہ آپ کو اس واسطے بلایا گیا ہے کہ آپ میرا مقابلہ کریں۔کیونکہ یہاں کے مولوی میرے مقابل میں نہ ٹھر سکے۔مگر آپ کو واضح رہے کہ کوہ ہمالہ کے اس طرف اس وقت کوئی ایسا مولوی نہیں ہے کہ جو آکر عبد الواحد کو شکست دے جائے۔ہاں تبادلہ خیالات کا سلسلہ مینوں چل سکتا ہے۔آج کل کے جتنے بڑے بڑے علماء ہند ہیں ان میں سے اکثر میرے ہم سبق رہ چکے ہیں۔اور اساتذہ کے ہم عصر جتنے علماء تھے سب فوت ہو چکے ہیں اس وقت ہندوستان کے مختلف علاقوں میں جو علماء موجود ہیں ان میں سے ہر ایک کے متعلق مجھے پوری واقفیت ہے کہ ان کا مبلغ علم کیا ہے۔مولانا محمد عبد الحی صاحب لکھنوی کے متعدد خطوط میرے پاس اس وقت بھی موجود ہیں ان کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ میرے متعلق کیسا خیال رکھتے تھے۔میری یہ باتیں سنکر مولوی عبد الوہاب بہاری مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ مولانا عبدالحی صاحب سے میری کہاں کی ملاقات تھی اس پر میں نے انہیں بتایا کہ میں تو انہیں کا شاگرد ہوں۔وسط ہند میں سوائے ان کے میں نے اور کسی سے نہیں پڑھا۔یہ منکر بہاری مولوی صاحب مزید تفتیش کرنے لگے اور کہنے لگے۔مولانا عبدالحی صاحب کے درسگاہ ہم تمام لکھنئو آپ کس وقت تشریف رکھتے تھے۔میں نے انہیں بتایا کہ میں اس زمانہ میں وہاں تھا۔جب مولوی عین القضاة صاحب اور مولوی ابوالحسن صاحب مولانا مرحوم سے پڑھتے تھے۔تب تو وہ میری طرف کسی قدر غور سے دیکھ کر کہنے لگے کہ میں نے بھی آپ کو وہاں دیکھا تھا۔ان کے اس کہنے پر میں نے بھی جو بغور ان کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میں نے بھی انہیں لکھنو میں دیکھا تھا۔پس ہم دونوں میں