جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 17 of 63

جذبۃ الحق — Page 17

17 تعارف ہو گیا۔اور مولوی عبدالوہاب ہماری بڑے اخلاص کے ساتھ مجھ سے ملے۔چونکہ تعلیم کے زمانہ میں وہ مجھ سے نیچے کی جماعت میں پڑھتے تھے اس وجہ سے وہ کبھی کبھی میرے پاس آکر اپنا سبق یاد کرتے تھے۔اس کا بھی انہیں خیال آگیا۔ان وجوہ سے وہ میرے خیر اندیشوں میں سے ہو گئے۔اور جب یہ بات میرے دوستوں میں مشہور ہو گئی کہ کلکتہ سے جو دو مولوی آئے ہیں وہ میری شاگردی کا اقرار کرتے ہیں تو وہ بہت ہی خوش ہوئے۔غرضیکہ مولوی عبد الوہاب نے اپنے اس شریر شاگرد کو جو مولوی حسن علی کے نام سے مشہور تھا اور اکثر دیہاتوں میں میری مخالفت کیا کرتا تھا ترش روئی کے ساتھ مخاطب کیا اور کما حسن علی تم مولوی عبد الواحد صاحب کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے ہویا نہیں چونکہ مولوی حسن علی مذکور کبھی بھی میرے پاس نہ آیا تھا اور میری مخالفت کیا کرتا تھا اس وجہ سے وہ کچھ جواب نہ دے سکا۔اور خاموش رہا۔اس وقت میں نے بتایا کہ بھلا وہ میرے پاس کیوں آنے لگا۔وہ تو آپ کی تعلیم کے اثر سے جاہلوں میں بیٹھ کر میری شکایت کیا کرتا ہے۔یہ سن کر مولوی عبد الوہاب آگ بگولا ہو گئے اور حسن علی سے بڑے غیظ و غضب کے ساتھ کہنے لگے۔کہ کیا واقعی تم ایسا کرتے ہو۔اگر سچ ہے تو اٹھ کر مولوی عبد الواحد صاحب سے معافی طلب کرو۔یہ سنکر مولوی حسن علی تو ہکا بکا ہو کر رہ گیا۔اور ناچار دست بستہ ہو کر مجھ سے معافی کا خواستگار ہوا۔میں نے اپنے ہاتھ سے اس کو بٹھا دیا۔اور کہا کہ اس کی ضرورت نہیں۔لیکن بات یہ ہے کہ تم کو مناسب نہ تھا کہ ہم سب سے ایسی بد سلوکی کرتے۔اگر تم ہم سے حسن سلوک کا برتاؤ کرو گے تو تمہاری آنے والی نسلیں بھی تم سے نیک سلوک کریں گی۔اور اگر ہم سے بدسلوکی کرو گے تو اپنی آئندہ نسل سے کبھی بھلائی کی