جذبۃ الحق — Page 15
15 میں پڑ گئے کہ کسی طرح خاکسار سے ملیں۔مگر چونکہ اس طرح چلے آنے میں لوگوں کے بد ظن ہو جانے کا خوف تھا اس وجہ سے یہ تدبیر ہونے لگی کہ خاکسار کو کسی طرح مولوی ولی اللہ صاحب سب رجسٹرار کے مکان پر لے جائیں۔اور اس غرض کے لئے دو شخص تیار ہوئے کہ جس طرح بھی ہو گا مجھے سب رجسٹرار صاحب مذکور کے مکان پر لے جائیں گے۔ان دونوں میں سے ایک تو ہائی سکول برہمن بڑیہ کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ور دوسرے صاحب برہمن بڑیہ کے ایک مسلمان تعلقہ دار تھے۔یہ دونوں میری بڑی منت سماجت کرنے لگے اور بہت کچھ کہہ سن کر اس بات پر راضی کیا کہ میں وہاں چلا جاؤں کیونکہ اس سے پہلے بھی میں کبھی کبھی سب رجسٹرار صاحب کے مکان پر جایا کرتا تھا اور وہ مولوی صاحبان بھی جو کلکتہ سے آئے تھے مجھ سے ملنے کے لئے بہت مشتاق تھے۔مولوی صاحبان خود ہی میرے پاس آتے۔لیکن برہمن بدیہ کی عوام کی چہ میگوئیوں کے خیال سے رکتے تھے۔المختصر میں ان کے ساتھ مولوی ولی اللہ صاحب کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔اور اس سے پہلے کہ میں وہاں پہنچوں مولوی ولی اللہ صاحب خود چل کرانائے راہ میں مجھ سے آملے اور تعظیم کے ساتھ مجھے لے گئے۔وہاں میں نے دیکھا کہ جو مولوی صاحبان بیرو نجات سے تشریف لائے تھے وہ بیٹھے ہیں اور ان میں مولوی حسن علی نامی ایک شریر شخص بھی جو بہاری مولوی عبد الوہاب کا شاگرد کہلاتا تھا بینا ہے۔اور ادھر ادھر موضع شہباز پور وغیرہ کے شریر النفس اشخاص تجمع ہیں۔میرے پہنچتے ہی مولوی عبد الوہاب بہاری بڑے تپاک سے اٹھ کر مجھ سے ملا۔اور ایک کرسی جو پہلے سے وہاں رکھی ہوئی تھی۔میری طرف بڑھادی جس پر میں بیٹھ گیا اور مولوی عبد الوہاب سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔