جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 8 of 63

جذبۃ الحق — Page 8

رسالہ لکھ کر حضرت صاحب کی تردید میں شائع کیا ہے فوراً اس کو منگا تا اور بڑے غور سے اس کو پڑھتا۔اور حضرت صاحب کی تحریر کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھتا تھا۔مخالف علماء کے بعض رسالوں کو بڑی جستجو سے گراں قیمت دے کر منگا تا اور بہت ہی بڑی توجہ کے ساتھ غور سے پڑھ کر کیفیت حال دیکھتا تھا۔بالآخر منکشف ہو گیا کہ مخالف علماء کو احقاق حق و تحقیق مطلب منظور نہیں۔بلکہ عوام الناس کو خوش کرنے کے لئے پرانی باتوں کی تائید حتی الامکان مد نظر رکھتے ہیں اور دلائل حقہ قویہ سے مدعی مہدویت کی باتوں کو نہیں پر کھتے اور خشیت اللہ سے بھی کچھ حظ نہیں رکھتے۔بلکہ دنیا طلبی اور دنیوی عزت و آبرو کی محبت ان پر غالب ہے جیسا کہ گذشتہ زمانے میں تمام نبیوں کے ساتھ معالمہ ہو تا آیا ہے۔ہے جیسا كَمَا لَا يَخْفَى عَلى أَهْلِ الْخِبَرَةِ - ہوتا المختصر وہ ساری کارگزاریاں جو اوپر لکھی گئیں۔خفیہ خفیہ ہوتی رہیں اور لوگوں پر ظاہر نہیں کی جاتی تھیں حتی کہ وکیل دولت خان صاحب پر بھی اس کا اظہار نہ کیا جاتا تھا ہاں کبھی کبھی بعض مخلص تلامذہ پر میں خفیہ طور سے کچھ ظاہر کر دیتا تھا اور کبھی حضرت صاحب کی کوئی کتاب پڑھ کر ان کو سمجھا دیتا تھا۔یہاں تک کہ وکیل صاحب کو میری اس کارروائی کی کچھ کچھ کیفیت معلوم ہو گئی۔اور جب حضرت صاحب کی بعض کتابیں مجھ سے لے جا کر پڑھنے لگتے تب میں بھی ان کو کبھی کبھی کچھ سمجھانے لگا۔پس انہوں نے بھی سلسلہ حقہ کا کچھ مزہ پایا۔اور شوق سے سلسلہ کی کتابیں پڑھنے لگے۔پھر سلسلہ حقہ کے معتقد بن گئے۔اور خوب معتقد بنے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو تبلیغ کرنے لگے۔