جذبۃ الحق — Page 7
تو تردید لکھنا شروع کر دیتا۔لیکن جب اپنی تحریر پر نظر ثانی کرتا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کچھ بھی نہ ہوئی اور پھاڑ ڈالتا تھا۔اسی طرح کاغذ کے بہت سے اوراق ضائع ہوئے۔اور بالآخر میں تھک کر رہ گیا اور تردید لکھنے کا خیال دور کر دیا۔پھر حضرت صاحب کی تائید میں کچھ زور طبیعت صرف کرنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں غیر معمولی قوت معلوم ہوتی ہے۔اس کے بعد میں حضرت صاحب سے بلا واسطہ خط و کتابت کرنے لگا۔اور اپنے شبہات کے جوابات خود حضرت صاحب سے طلب کرنے لگا۔چنانچہ میرے بعض سوالات کے جوابات حضرت صاحب کی تصنیف براہین احمدیہ حصہ پنجم میں چھپے ہوئے موجود ہیں جو چاہے دیکھ سکتا ہے۔اس عرصہ میں مجھ پر کئی امور کھلے (۱) ایک یہ کہ اس جماعت میں بڑے بڑے علماء بھی ہیں جیسا کہ سابق اس کا کچھ ذکر بھی کیا گیا ہے۔(۲) یہ کہ مدعی مہدویت خود بھی ایک بڑا عالم شخص ہے کہ اس کے سامنے دوسرا کوئی عالم کوئی چیز ہی نہیں۔(۳) تیسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مدعی مہدویت نے یہ علم کسی نامی گرامی عالم سے حاصل نہیں کیا۔بلکہ اوائل عمر میں گھر میں کچھ معمولی سی تعلیم اس کی ہوئی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔(۳) چوتھا امریہ کہ پنجاب و ہندوستان کے اکثر علماء اس کے اس قدر مخالف ہیں کہ جان تک لینے کو تیار ہیں۔پھر مجھے یہ خیال آیا کہ مخالف علماء کے خیالات کو بھی دیکھنا چاہئے۔تاکہ معلوم ہو کہ منصفانه احقاق حق و ابطال باطل کرتے ہیں۔یا متعصبانہ کلام کرتے ہیں۔پس جب سنتا کہ کسی عالم معتبر نے کوئی کتاب