جذبۃ الحق — Page 9
9 قبل میرے احمد کی ہونے کے ہی ہنگامہ سازی و جلسہ پردازی ہونے لگی اگرچہ برہمن بڑ یہ میں ہمارے یہاں خفیہ طور پر احمد بیت کا چرچا ہو تا تھا پھر بھی بنوائے آنکہ "مشک و عشق را نتواں نهفتن " اطراف و جوانب میں اس کی شہرت کسی قدر ہو گئی تھی۔اور اس راہ سے لوگ میری کچھ نہ کچھ شکایت بھی کرنے لگے تھے۔اس وجہ سے ایسے ایسے مولوی لوگ جو میرے سامنے آکر کچھ کہنے کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے غائبانہ برا کہنے لگے اور عوام کے سامنے اس راہ سے کچھ نفسی و تمسخر بھی کرنے لگے یہ حال سنکر وکیل صاحب کو کچھ غصہ سا آگیا تو انہوں نے ایک جلسہ قرار دے کر اور تاریخ مقرر کر کے ایک اشتہار اس مضمون کا چھپوا دیا۔کہ جو مولوی صاحبان سلسلہ احمدیہ کے خلاف دلائل محکم رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے دلائل لے کر جلسہ مذکورہ میں حاضر ہوں انہیں پیش کریں۔الغرض اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی اطراف و جوانب میں ایک دھوم مچ گئی اور ایک طوفان برپا ہو گیا۔لوگ مولویوں کو کہنے لگے کہ آپ لوگوں کی جو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے بڑی بڑی باتیں کیا کرتے ہیں اس جلسہ میں جانے پر کیفیت حال معلوم ہو گی۔آپ لوگوں کو اس جلسہ میں ضرور جانا چاہئے۔مخالف مولویوں میں میرا ایک سخت دشمن مولوی سعد اللہ نامی تھا اس نے اپنے بھتیجے کو جس کا نام مولوی شمس اللہ کی تھا اور اس وقت وہ کلکتہ ہائیکورٹ میں وکیل تھا بت زور کے ساتھ لکھا کہ اس نے (یعنی خاکسار نے) یہاں ایک جلسہ مباحثہ قرار دیا ہے اگر اس میں نہ جاؤں تو عوام میں میری مفت