جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 131 of 143

جنت کا دروازہ — Page 131

131 جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کا قیمہ بھی بنا دیں تب بھی میرے ہر ذرہ سے صدائے حق ہی بلند ہوگئی۔یہ خط نتیجہ خیز ثابت ہوا اور گھر سے مخالفانہ پر تشدد کوششوں کا سلسلہ بکلی ختم ہو گیا۔1900ء کے دوران گھر کی طرف سے اطمیان ہوا مگر تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ہر طرح کا علاج بے اثر معلوم ہونے لگا۔علم ہونے پر حضرت مسیح موعود نے دعا شروع کی اور دوائی بھی بتائی جس سے دیکھتے ہی دیکھتے گویا مردہ زندہ ہونے لگا۔ایک دن حضرت اقدس کی زیارت ہوئی۔حضور نے احوال پوچھے تو کہنے لگے۔حضور موت کے بعد ایک نئی زندگی ملتی معلوم ہوتی ہے“۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ٹھیک ہے کفر کا گوشت پوست تھا۔وہ جاتا رہا اب سب خیر ہے۔اسی دوران علالت کی خبریں سن کر والدہ قادیان آگئیں اس طرح حضرت بھائی جی کے سکون واطمینان کے علاوہ مناسب خوراک اور دیکھ بھال کا انتظام ہو گیا۔والدہ صاحبہ حضرت اقدس گھر کی خواتین اور عام احباب کے غیر معمولی حسن سلوک سے از حد متاثر ہوئیں۔آخر حضرت اقدس کی اجازت سے والدہ اپنے بیٹے کو ساتھ گھر لے گئیں اور بڑی ہمت و جرآت سے اپنے پاس رکھا اور کسی کے اعتراض کی پرواہ نہ کی بلکہ نمازیں وغیرہ پڑھنے کی کھلی اجازت دی۔حضرت بھائی جی قریباً ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گھر رہ کر والدہ صاحبہ کی اجازت سے پھر قادیان واپس آگئے۔اور ساری زندگی وہیں گزاری۔خلاصه از الحکم مئی۔جون 1938 ء کے متعدد پرچے)