جنت کا دروازہ — Page 130
130 نگرانی والد صاحب کے بھتیجے راج کرن نے کی جو کہ نہایت متعصب ہندو تھا کی کئی دفعہ حضرت بھائی جی سے ہاتھا پائی اور لاٹھی سوٹا ہوا۔وقت گزرتا گیا حتی کہ ایک دن کسی ضرورت کے لئے خاندان کی ایک بوڑھی خاتون کو گاؤں سے لانے کے لئے آپ کی ڈیوٹی لگی جو اس اذیت ناک فضا سے نجات کی بنیاد بنی۔سفر کے لئے آپ کو سانگلہ ہل سے ٹرین پر سوار ہوتا تھا۔ایک مدد گار ساتھ کر دیا گیا جسے سٹیشن کے قریب پہنچ کر آپ نے واپس کر دیا اور خود ٹکٹ لے کر عازم سیالکوٹ ہوئے وہاں احباب سے مل کر قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔اس طرح قریباً نو ماہ کی تلخ جدائی کے بعد آپ کو پھر سے قادیان میں امان می۔خدا کے مسیح نے فرمایا تھا ہمارا ہے تو آ جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا حضرت اقدس مسیح موعود از حد مسرور و شادماں ہوئے اور فرمایا: آپ آگئے بہت اچھا ہوا۔آپ کے والد صاحب نے وعدہ کا پاس نہ کیا اور آپ کو روک کر تکلیف میں ڈالا۔ہمیں بہت فکر تھی مگر شکر ہے کہ آپ کو اللہ نے ثابت قدم رکھا اور کامیاب فرمایا۔مومن قول کا پکا اور وفادار ہوتا ہے۔“ قادیان دارالامان پہنچ کر آپ ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبتوں سے کہیں بڑھ کر زیادہ کچی اور وسیع محبت میں بسنے لگے۔دوسری طرف جاننے والے ہندوؤں کے مینوں پر سانپ لوٹ گئے۔آپ کو اغوا کرنے کی چار پانچ بار کوشش ہوئی۔مگر خدا نے ہر طرح آپ کو ثابت قدم رکھا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب نے والد صاحب اور دیگر عزیزوں کی ساری کوششیں دیکھتے ہوئے آخر کار ایک فیصلہ کیا اور اپنی والدہ محترمہ کے نام ایک مفصل خط لکھا کہ بالفرض آپ لوگ مجھے پکڑ لے جانے میں کامیاب بھی ہو جائیں اور میرے