جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 132 of 143

جنت کا دروازہ — Page 132

132 میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا شیخ عبدالرحیم صاحب شر ما ( سابق کشن لعل ) ہندؤوں سے احمدی ہوئے۔آغاز میں انہوں نے اپنے اسلام کو خفی رکھا۔مگر ایک دن والدہ نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔جب وہ برہم ہو ئیں تو شیخ صاحب نے فرمایا۔میں ( احمدیت ) کو سچاند ہب سمجھتا ہوں۔میں نے اس کو آزمایا ہے۔میں اس کو کسی طرح نہیں چھوڑ سکتا۔محض آپ کی خاطر اپنے ایمان کو چھپایا ہوا تھا اگر آپ ناراض ہوں گی اور مخالفت کریں گی تو میں اعلانیہ طور پر (احمدی) ہو جاؤں گا۔اور گھر چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں گا“۔آخر والدہ اس بات پر رضا مند ہو گئیں کہ شیخ صاحب چھپ کر نماز پڑھ لیں مگر اپنے دین کی تبدیلی کا اعلان نہ کریں۔۔کچھ عرصہ کے بعد شیخ صاحب نے اپنے احمدی ہونے کا عام اعلان کر دیا۔برادری کے زور دینے پر والدہ نے ان کے ساتھ قطع تعلقی کردی۔فرماتے ہیں برادری کے ڈر سے نہ میں ہی والدہ صاحبہ کوٹل سکتا تھا۔اور نہ میری والدہ مجھے سے مل سکتی تھیں۔میری والدہ صاحبہ کو مجھ سے بے حد محبت تھی۔وہ میری جدائی کو برداشت نہ کر سکتی تھیں۔اور روتی رہتی تھیں۔شام کو دفتر بند کر کے جب میں احمد یہ بیت الذکر کو جاتا اور اپنے محلہ کے پاس سے گذرتا۔تو میری والدہ مجھ کو دیکھنے کے لئے بازار کے ایک طرف کھڑی ہو جاتیں۔یہ نظارہ بہت تکلیف دہ ہوتا۔جب میں ادھر سے گذرتا تو اپنی والدہ کو روتے ہوئے پاتا۔اکثر تو روتے روتے ان کی ھکھی بندھ جاتی۔اور دور تک ان کے رونے کی آواز سنائی دیتی۔مجھ کو بہت