جنت کا دروازہ — Page 126
126 مگر جب وہ حلقہ توحید میں داخل ہوئے تو یہ ساری نعمتیں ان سے چھن گئیں۔جب ان کی ماں والد اور اہل خاندان کو اپنے بیٹے کے اس فعل کا پتہ لگا تو ان کی ساری محبت اور وارفتگی شعلے اگلتی ہوئی نفرت میں بدل گئی اور مجرم تو حید کے لئے شرک کی عدالت نے قید تنہائی کا فیصلہ سنایا۔اور وہ عرصہ تک قید و بند کے مصائب برداشت کرتے رہے تا آنکہ خدا نے رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔مگر اس دوران ان کا تمام رنگ و روپ زائل ہو گیا۔اور تمام عیش و ھم نے منہ پھیر لیا مگر تو حید کے اس فرزند نے ماں کی محبت اور اس کے ہر مطالبہ کو رد کر کے خدا اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی محبت کو ترجیح دی۔طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 116 بیروت 1957ء) خداد یکھ رہا ہے حضرت عمر بن عبد العزیز کی والدہ ام عاصم حضرت عاصم بن عمر بن الخطاب کی صاحبزادی تھیں۔علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ ایک روز رات کو حضرت عمر مدینہ کا گشت لگا رہے تھے کہ ایک دیوار کے نیچے تھک کر بیٹھ گئے۔گھر کے اندر ایک عورت اپنی لڑکی سے کہہ رہی تھی کہ اٹھ کر دودھ میں پانی ملادے۔لیکن لڑکی نے کہا کہ امیر المومنین نے منادی کرا دی ہے کہ دودھ میں پانی نہ ملایا جائے ماں نے کہا کہ اس وقت عمر اور عمر کے منادی دیکھ نہیں سکتے تم دودھ میں پانی ملا دو۔اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں مجمع میں امیر المومنین کی اطاعت کروں اور خلوت میں ان کی نافرمانی کا داغ اپنے دامن پر لگاؤں حضرت عمر نے یہ تمام گفتگوسن لی اور اپنے ساتھ نے کہا کہ اس دروازے اور اس جگہ کو یا درکھو۔صبح ہوئی تو ان کو بھیجا کہ پتہ لگا ئیں کہ یہ کون عورتیں تھیں اور وہ صاحب شوہر ہیں یا نہیں؟ وہ آئے تو معلوم ہوا کہ لڑکی کنواری