جنت کا دروازہ — Page 125
125 یا بجولاں حضرت ابو جندل بن سہیل نے جب کفر کی زنجیریں توڑیں تو باپ نے قید میں ڈال دیا اور سخت مظالم کئے یہاں تک کہ بدن زخموں سے چور چور ہو گیا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ اور سہیل کے درمیان معاہد ولکھا جا رہا تھا تو ابو جندل بھی کسی طرح پابجولاں وہاں آن پہنچے اور گو بھی معاہدہ پر دستخط نہ ہوئے تھے مگر سہیل نے بیٹے کو واپس کرنے پر اصرار کیا۔صحابہ کے دل اپنے بھائی کی حالت زار دیکھ کر خون ہو رہے تھے۔خود آنحضرت ﷺ کا محبت بھر ادل شدید اذیت میں مبتلا تھا مگر آپ نے معاہدہ کی پابندی کرتے ہوئے ابوجندل سے فرمایا ”صبر سے کام لو اور واپس چلے جاؤ۔حضرت ابو جندل دوبارہ اپنے باپ کے ہاتھوں مصائب و آلام کی آگ میں چلتے رہے عمر آپ کے پائے ثبات میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔وہ ہاتھ جو حمد مصطفی ہے کا دامن تھام چکا تھا وہ کٹ تو سکتا تھا جدانہیں ہو سکتا تھا۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ حدیبیہ حدیث نمبر 3861) رنگ و روپ بدل گیا حضرت مصعب بن عمیر مکہ کے ایک نہایت حسین و خوش رو نو جوان تھے ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے لخت جگر کو نہایت ناز و نعم سے پالا تھا۔چنانچہ وہ عمدہ سے عمدہ پوشاک اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال فرماتے تھے۔خود آنحضرت کبھی ان کا تذکرہ کرتے تو فرماتے ” مکہ میں مصعب سے زیادہ کوئی حسین خوش پوش اور پروردہ نعمت نہیں ہے۔