جنت کا دروازہ — Page 109
109 دونوں کے لئے بچوں کو اس نیکی کو جاری رکھنا چاہئے اور اللہ تعالی کے فضل سے جماعت میں یہ نیکی پائی جاتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ ماں باپ کے مرنے کے بعد کثرت سے ان کے چندوں کو پورا کیا جاتا ہے۔بچے چین نہیں لیتے جب تک ان کی اس نیک خواہش کو پورا نہ کر لیں خواہ کتنا ہی بوجھ اٹھانا پڑے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یہ نیکی بہت عام ہے۔دوسرے اس میں فرمایا گیا ہے اس رشتہ داری کو ملانا جو اس کے ساتھ ہی ملائی جا سکتی ہے۔یعنی ماں باپ کے وقت میں تو ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کو دیکھ کر تم لوگ بھی ان رشتہ داروں سے حسن سلوک کر دیتے ہو۔وہ گھر میں آتے ہیں ہنس کر بات کرتے ہو عزت سے سوال کرتے ہو لیکن کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ماں باپ کے گزرنے کے بعد پھر ان کو بھول جاتے ہیں۔تو ان کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔اور ایسے جلسہ کے موقعہ پر بھی مہمان آتے ہیں جو کسی زمانے میں ماں باپ کو بہت پیارے تھے اور عزیز تھے۔ان کی رشتہ داری تھی یا نہیں تھی مگر ان سے بہت حسن سلوک کیا کرتے تھے تو ان کے مرنے کے بعد جو نیکیاں ان کو پہنچائی جاسکتی ہیں ان میں ان کے لئے عزت کے ساتھ اپنے گھر میں جگہ بنائی اور ان کے لئے ہر قسم کی آسائش کے سامان مبیا کرنے یہ بھی ایک بہت اہم نیکی ہے۔ساتھ ہی فرمایا ان کے دوستوں کی بھی عزت کرنی چاہیئے۔صرف رشتہ داروں کے لئے نہیں بلکہ دوستوں کے لئے۔الفضل 2 مئی 2000ء) ایک صحابی حضور کے پاس آئے اور کہا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے مگر اس پر ایک ماہ کے روزوں کی قضا ہے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں فرمایا ہاں۔پھر اس نے پوچھا اس نے حج نہیں کیا کیا میں اس کی طرف سے حج کروں فرمایا ہاں۔