جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 110 of 143

جنت کا دروازہ — Page 110

110 ( سنن ابي داود كتاب الوصايا باب الرجل يهب الهبة حديث 2492) حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ فوت ہو ئیں تو وہ حضور اللہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے کوئی صدقہ کروں تو انہیں کوئی فائدہ پہنچے گا فرمایا ہاں تو انہوں نے اپنا مخراف نای باغ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا۔(بخاری کتاب الوصایا باب اذا قال ارضی او بستانی صدقہ للہ حدیث 2551) حضرت خلیفہ امسیح الاول فرماتے ہیں۔میری والدہ کی وفات کی تار جب مجھے ملی تو اس وقت میں بھاری پڑھ رہا تھا۔وہ بخاری بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔میں نے اس وقت کہا اے اللہ میرا باغ تو یہی ہے تو پھر میں نے وہ بخاری وقف کر دی۔فیروز پور میں فرزند علی کے پاس ہے۔( حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 184) فوت شدگان کو ثواب پہنچانے والی احادیث کی وضاحت کے لئے سید نا حضرت خلیفة اسم الرابع اید والله بنصر و العزیز کا ایک ارشا دور ج کیا جاتا ہے۔اس سوال پر کہ کسی فوت شدہ عزیز کو ثواب کس طرح پہنچایا جائے؟ حضور نے جواب دیا۔آنحضرت ﷺ کی سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر کوئی اپنی زندگی میں نیکیاں کرتا ہو ان کو اس کی موت کے بعد بھی جاری رکھنا جائز ہے اگر زندگی میں قرآن نہیں پڑھتا مرنے کے بعد اسے قرآن بخشوایا جائے تو یہ لغو بات ہے۔ایک شخص نے حضرت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں صدقہ و خیرات بہت کیا کرتی تھی اور اس کی خواہش تھی کچھ دینے کے لیکن وہ اس سے پہلے فوت ہو گئی تو میرے لئے کیا حکم ہے۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم اس کی طرف سے صدقہ دو۔اس کا ثواب خدا تعالٰی اس کو دے گا۔یعنی وہ نیکی کی نیت کرنے والی تھیں۔