جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 108 of 143

جنت کا دروازہ — Page 108

108 والدین کی خدمت اور شکر گزاری ایک ایسا دائمی سلسلہ ہے جو ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔اور آنحضرت ﷺ نے اس کا طریق بھی سکھایا ہے۔حضرت ابو اسید الساعدی بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت نے کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کر سکوں؟ آپ نے فرمایا۔ہاں کیوں نہیں۔تم ان کے لئے دعا ئیں کرو ان کے لئے بخشش طلب کرو انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ان کے عزیز واقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔(ابو داؤد کتاب الادب باب في بر الوالدین حدیث 4476) حضرت خلیفہ امسح الرابع ایدہ اللہ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔پس والدین کے حق میں جو دعائیں ہیں ان کے علاوہ یہ عملی تعلیم بھی ہے جس پر عمل بڑا ضروری ہے۔والدین جو نیکی کیا کرتے تھے اور بیچ میں عمر کٹ گئی یعنی عمر منقطع ہو گئی اس نیکی کو اگر جاری رکھا جا سکتا ہو تو وہ نیکی ایسی ہے جو والدین کے درجات کو بلند کرنے کا موجب بنے گی۔اس ضمن میں چندہ جات ہیں۔بہت سے والدین با قاعدگی کے ساتھ چندہ دیتے ہیں اور وعدے کر دیتے ہیں بڑے چندوں کے۔مگر اس سے پہلے کہ وہ پورا کر سکیں ان کو موت آجاتی ہے۔تو ایسی صورت میں بچوں کا فرض ہے کہ اگر وہ حقیقت میں ماں باپ سے محبت کرتے ہیں اور ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو خواہ باپ فوت ہو جائے اس خواہش کے ساتھ کہ میں یہ چندہ دوں گا یا ماں فوت ہو جائے