جنت کا دروازہ — Page 99
99 i نئی زندگی سید عبداللہ شاہ کے بیٹے سید حمید احمد صاحب اپنے والد کے متعلق لکھتے ہیں۔یہ 38- 1937 کا زمانہ تھا آپ ایک شپنگ کمپنی میں ملازم تھے ان کا بحری جہاز دنیا کے مختلف ممالک کے علاوہ حج کے لئے مسافروں کو سعودی عرب لے جایا کرتا تھا۔اس ملازمت کے دوران آپ کو حج کرنا نصیب ہوا اور یوں بچپن میں دیکھی گئی خواب پوری ہوئی۔جہاز چونکہ لمبے سفر پر رہتا تھا اس لئے والد و اکثر پریشان رہتی تھیں۔جنگ عظیم کا زمانہ بھی تھا۔ایک بار جب والد صاحب چھٹی لے کر گھر آئے تو والدہ ڈیوٹی پر واپس بھیجنے کے لئے تیار نہ ہوئیں۔حضرت خلیفہ ثانی والدہ کی پریشانی کو خوب سمجھتے تھے۔چنانچہ حکم ہوا عبداللہ تم کہیں نہیں جاؤ گے۔والدہ کا خیال رکھو۔تمہاری ملازمت کا یہیں بندوبست ہو جائے گا چنانچہ والد صاحب نے فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے سفر الاؤنس سمیت /65 روپے ماہوار والی جہاز کی نوکری چھوڑ دی جبکہ اس وقت ایک افسر کی تنخواہ - 45 روپے ہوا کرتی تھی۔ملازمت چھوڑنے کے بعد ایک بار وہی جہاز بیٹی سے آسٹریلیا کی طرف جارہا تھا راستہ میں جاپانیوں نے بمباری کر کے تباہ کر دیا۔جہاز عملہ مسافروں سمیت سمندر میں غرق ہو گیا۔اس واقعہ نے والد صاحب کی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا۔والدہ اور امام وقت کی اطاعت سے گو یا دو بارہ نئی زندگی مل گئی۔(الفضل 10 نومبر 2000ء) والدین کی دعا حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔تین دعائیں ہیں جو لازما قبول ہوتی ہیں۔