جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 57 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 57

57 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ غیروں کی نظر میں جناب مولانا ابوالنصر غلام بین برادر مولانا ابوالکلام آزاد۔اپریل ۱۹۰۵ء میں قادیان تشریف لائے اور واپسی پر اپنے تاثرات اخبار وکیل امرتسر میں بدیں الفاظ میں شائع فرمائے۔” میرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے آنکھوں میں خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منسکر مگر حکومت خیز ، مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا برد باری کی شان نے انکساری کی کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گویا متبسم ہیں۔رنگ گورا ہے بالوں کو حنا کا رنگ دیتے ہیں۔جسم مضبوط اور محنتی ہے۔سر پر پنجابی وضع کی سفید پگڑی باندھتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے۔عمر تقریباً ۶۶ سال کی ہے۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں خوش اعتقاد پایا۔“ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف نے فرمایا:۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی حق پر ہیں اور اپنے دعوی میں راست باز اور صادق ہیں اور آٹھوں پہر اللہ تعالیٰ حق سبحانہ کی عبادت میں مستغرق رہتے ہیں۔اور اسلام کی ترقی اور دینی امور کی سر بلندی کے لئے دل و جان سے کوشاں ہیں میں ان میں کوئی مذموم اور فتیح چیز نہیں دیکھتا۔اگر انہوں نے مہدی اور عیسی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ بھی ایسی بات ہے جو جائز ہے۔“ (اخبار وکیل امرتسر ۱۹۰۵ء) اشارات فریدی جلد نمبر ۳ ص ۱۷۹انترجمه از فارسی) چودھری افضل حق صاحب صدر جمیعت الاحرار رقمطراز ہیں:۔آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا جس میں تبلیغی جس مفقود ہو چکی تھی۔سوامی دیانند کی مہذب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہوگی۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی ہاں ایک دل ( حضرت مسیح موعود مراد ہیں۔ناقل ) مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا اور اپنی جماعت میں اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔(فتنہ ارتداداور پولیٹیکل قلابازیاں ص ۴۶)