جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 56
56 وفات آپ اپنے روحانی مشن کے لحاظ سے انتہائی کامیاب زندگی گزار کر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل لاہور میں وفات پا کر اس دارفانی سے کوچ کر کے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔اور ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو قادیان ضلع گورداسپور میں بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔انالله وانا اليه راجعون۔جناب مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر حضور کی وفات پر ”موت عالم“ کے عنوان سے رقمطراز ہیں:۔وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر اور زبان جادو۔و شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تارا لجھے ہوئے تھے جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تمہیں برس تک زلزلہ اور طوفان بنارہاجوشور قیامت ہوکر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا۔مرزا غلام احمد قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے۔ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو، ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بہت بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہیں مجبور کرتی ہے کہ اس احسان کا کھلم کھلا اعتراف کیا میرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابل پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔“ جائے۔(اخبار وکیل امرتسر ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ء)