جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 563
563 سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی ذرہ نوازی کی بدولت آپ کو صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی نمائندگی کی توفیق پائی۔جلسہ میں شرکت کے علاوہ حضور انور کے خصوصی ارشاد کے مطابق سویڈن ، ناروے اور جرمنی کی جماعتوں کا دورہ بھی کیا اور سوال و جواب کی مجالس کا کامیاب انعقاد بھی عمل میں آیا۔آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ترجمہ قرآن میں خدمت کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔۳ را پریل تا ۳ مئی 1990ء گوجرانوالہ سنٹرل جیل میں 9 دیگر احمدی احباب کے ساتھ آپ اسیر راہ مولی بھی رہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے آپ کے فرزند مکرم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب کارڈیالوجسٹ فضل عمر ہسپتال ربوہ کو ایک مکتوب میں فرمایا کہ شیر پنجرے میں بھی شیر ہی رہتا ہے۔اللہ کے شیروں سے ملنے جاؤ تو میرا محبت بھر اسلام اور پیار دینا۔۲۰ ویں صدی کے آخری عشرہ میں کیمبرج کے ایک عالمی ادارے انٹرنیشنل بلیو گرافیکل کی طرف سے احمدیت کے اس خادم کو مین آف دی ایئر ۱۹۹۲ ۱۹۹۳۶ء کا اعزاز دیا گیا۔یہ اعزاز ایسی خاص علمی شخصیات کو دیا جاتا ہے جن کی صلاحیتوں ، کامیابیوں اور قیادت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔پاکستان کے تمام بڑے اور موقر اخبارات نے اس اعزاز کی خبریں دیں۔محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے چار خلافتوں کا زمانہ پایا اور خلفاء کرام کے زیر سایہ خدمت کی توفیق پائی اور ان کی نوازشات اور التفات نیز خوشنودی حاصل کی۔آپ کا خلافت سے عشق و محبت مثالی تھا۔جب بھی خلیفہ امسیح کی طرف سے کسی کام کے سلسلہ میں کوئی ارشاد موصول ہوتا، جب تک اس کی مکمل تعمیل نہ کر لیتے کسی اور کام کرنے کو جائز نہ سمجھتے تھے۔رات گئے تک خود اور اپنے رفقاء کو اس کام کے لئے مصروف رکھتے اور جب حوالہ جات اور ریسرچ کا مطلوبہ کام مکمل ہوجاتا تو آپ کو اطمینان نصیب ہوتا۔آپ انتھک محنت کرنے والے بااصول شخصیت کے حامل تھے۔اپنی عمر کے آخری ایام تک بیماری اور بڑھاپے کے باوجود با قاعدہ دفتر تشریف لا کر خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ پابندی وقت کا بہت خیال رکھتے تھے، اپنے ساتھیوں کو بھی وقت کی بچت کا درس دیتے رہتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ جو محہ گزر گیا وہ کسی بھی قیمت پر واپس نہیں آسکتا۔دعوت الی اللہ کا آپ کو بہت شوق تھا، اپنے مدلل انداز تخاطب سے دوسروں کا منہ بند کرنے میں آپ کو خاص مہارت حاصل تھی ، ہر اعتراض کی جڑ تک بآسانی پہنچ جاتے تھے۔دعوت الی اللہ کا بے پناہ شوق اور ولولہ آپ کو براہ راست اپنے والد سے ورثہ میں ملا تھا۔آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو دنیا کے ہر موضوع کی کتب کا بھر پور مطالعہ تھا۔آپ مطالعہ بہت