جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 564 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 564

564 تیزی سے کرنے کے عادی تھے۔اگر آپ کے سامنے کتابوں سے بھرا بکس بھی آجاتا تو دو تین دن میں پڑھ ڈالتے اور ہر قیمتی حوالہ اور مطلب کی بات کو ہر کتاب کے ٹائٹل کی پشت پر نوٹ بھی کر دیتے ، حوالوں کی کتب کا تلاش کرنا ، ان کو محفوظ رکھنا اور ان کو بر موقع استعمال کر کے دوسروں تک پہنچانے کا کام آپ نے بخوبی سرانجام دیا۔اسی ذاتی شوق کی بنا پر آپ نے اپنے گھر میں قیمتی حوالہ جاتی کتب کی لائبریری بھی ترتیب دے رکھی تھی اور ایک ایک نایاب اور تاریخی کتاب کے حصول کے لئے آپ نے دور دراز کے سفر بھی گئے۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ۱/۲۳ اکتوبر۱۹۸۲ء کو بیت مبارک ربوہ میں مجلس عرفان میں فرمایا: ”مولوی دوست محمد صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے حوالوں کے بادشاہ ہیں۔ایسی جلدی ان کو حوالہ ملتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ساتھ جب قومی اسمبلی میں پیش ہوئے تھے تو وہاں بعض غیر از جماعت دوستوں نے آپس میں تبصرہ کیا اور بعض احمدی دوستوں کو بتایا کہ ہمیں تو کوئی سمجھ نہیں آتی۔ہمارے اتنے موٹے موٹے مولوی ہیں، ان کو ایک ایک حوالہ ڈھونڈنے کے لئے کئی کئی دن لگ جاتے ہیں لیکن ان کا پتلا د بلا سا مولوی ہے اور منٹ میں حوالے ہی حوالے نکال کر پیش کر دیتا ہے“۔( روزنامه الفضل ااجون ۱۹۸۳ء) روز نامہ الفضل اور دیگر جماعتی رسائل و جرائد میں آپ کے متعدد تحقیقی مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔روز نامہ الفضل میں ”عالم روحانی کے لعل و جواہر کے عنوان سے آپ نے مفید، کارآمد، نایاب اور قیمتی حوالہ جات ، واقعات اور معلومات پر مبنی ایک طویل سلسلہ جاری فرمایا جس کی ۶۳۰ اقساط اشاعت کے زیور سے آراستہ ہو چکی ہیں اور ابھی ان کی طرف سے موصولہ بہت سا مواد موجود ہے۔جماعت احمدیہ کے دیرینہ خادم ، متبحر عالم، محقق، دانشور اور مؤرخ احمدیت محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب مورخه ۲۶ اگست ۲۰۰۹ء کو صبح طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں بعمر ۸۲ سال اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔آپ نے ۶۳ سال سے زائد عرصہ جماعت احمدیہ کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعه فرموده ۲۸ / اگست ۲۰۰۹ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن میں حضرت مولانا کے خصائل اور سیرت کے بعض نمایاں پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: میں سمجھتا ہوں کہ صرف مؤرخ احمدیت نہیں تھے بلکہ آپ تاریخ احمدیت کا ایک باب بھی تھے اور ایک ایسا روشن وجود تھے جو دین حق کی روشنی کو ہر وقت دنیا میں پھیلانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔آپ کا بلا کا حافظ تھا بلکہ ایک مکمل انسائیکلو پیڈیا تھے۔خلافت سے انتہا کا تعلق تھا، بہت بزرگ اور دعا گو تھے۔“