جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 539
539 ۱۰۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید پیدائش :۱۸۵۳ء۔بیعت : ۱۸ نومبر ۱۹۰۲ء۔شہادت ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کا وطن، خاندان اور پیدائش حضرت صاحبزادہ افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقہ خوست کے رہنے والے تھے۔ان کے گاؤں کا نام سید گاہ ہے جو دریائے شمال کے کنارہ پر آباد ہے۔پکتیا میں چندن گاؤں آپ کی ملکیت تھے۔زرعی اراضی کا رقبہ سولہ ہزار کنال تھا۔اس میں باغات اور پن چکیاں بھی تھیں۔اس کے علاوہ ضلع بنوں میں بھی بہت سی زمین تھی۔آپ کے والد صاحب کا نام سید محمد شریف تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہما اشجرہ نسب تو جل کر ضائع ہو گیا لیکن میں نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ ہم حضرت سید علی ہجویری المعروف به دا تا گنج بخش کی اولاد ہیں۔ہمارے آباء دہلی کے بادشاہوں کے قاضی ہوتے تھے۔خاندان کی ایک بڑی لائبریری تھی جس کی قیمت نو لاکھ روپیہ بتائی جاتی ہے۔جب ہمارے بزرگوں نے حکومت میں عہدے حاصل کر لئے تو ان کی توجہ کتب خانہ کی طرف نہ رہی اور یہ کتا میں ضائع ہو گئیں۔میرا اپنا یہ حال ہے کہ جائیداد چونکہ مجھے ورثہ میں ملی ہے اس لئے اسے رکھنے پر مجبور ہوں ورنہ میرا دل دولت کو پسند نہیں کرتا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ صاحبزادہ صاحب کی عمر ۵۰ سال تھی۔حضور فرماتے ہیں : ” قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی۔روز نامہ الفضل ۷ انومبر ۱۹۳۲ء ص ۹) حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۳ء میں ہوئی اس طرح ان کا سن پیدائش ۱۸۵۳ء بنتا ہے۔تحصیل علم کے سفر : حضرت صاحبزادہ سید محد عبداللطیف نے ہندوستان میں مندرجہ ذیل مقامات پر علوم مروجہ کی تعلیم حاصل کی :۔امرتسر لکھنو، دیو بند اور ضلع پشاور۔ان جگہوں پر ان کا مجموعہ قیام کئی سال رہا۔حضرت صاحبزادہ عربی، فارسی ، پشتو اور ار دوز بائیں جانتے تھے۔وجاہت اور بلند علمی وروحانی مقام: سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرماتے ہیں: ”وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے۔“ (رسالہ شہید مرحوم کے چشمد ید واقعات حصہ دوم ص ۶۴)