جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 540 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 540

540 اسی طرح فرمایا: ” یہ بزرگ معمولی انسان نہیں تھا بلکہ ریاست کابل میں کئی لاکھ کی ان کی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی علمداری میں بھی بہت سی زمین تھی اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست نے تمام مولویوں کا ان کو سردار قرار دیا تھا۔وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھے جاتے تھے۔اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہی کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔۔۔ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب ان کے معتقد اور ارادتمند ہیں۔جن میں سے بعض ارکان ریاست بھی تھے۔غرض یہ بزرگ ملک کا بل میں ایک فرد تھا۔اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقومی کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخون زادہ اور شاہزادہ کے لقب سے اس ملک میں مشہور تھے اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور تفسیر اور فقہ اور تاریخ کا اپنے پاس رکھتے تھے اور نئی کتابوں کے خریدنے کے لئے ہمیشہ حریص رہتے تھے اور ہمیشہ درس کا شغل جاری تھا اور صد ہا آدمی ان کی شاگردی کا فخر حاصل کر کے مولویت کا خطاب پاتے تھے۔لیکن با ایں ہمہ کمال یہ تھا کہ بےنفسی اور انکسار میں اس مرتبہ تک پہنچ گئے تھے کہ جب تک انسان فائی الہ نہ ہو یہ مرتبہ نہں پا سکتا۔ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھنے لگتا ہے اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اس کو مانع ہو جاتی ہے۔مگر یہ شخص ایسا بے نفس تھا کہ باوجود یکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اس کو اپنی علمی ور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔“ (شہید مرحوم کے چشمد ید واقعات حصہ دوم ص ۱۹) حضرت صاحبزادہ صاحب کو کسی مصلح کے ظہور کا انتظار تھا: سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب بڑے محقق انسان تھے۔آپ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ زمانہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس وقت کوئی مصلح مبعوث کیا جائے۔مولوی شان محمد صاحب سے روایت ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ اور علامات کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔فرماتے تھے زمانہ تو یہی ہے اب دیکھو خدا تعالیٰ کسے مامور کرتا ہے۔بعض دفعہ یہ بھی فرماتے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے دانتوں کے درمیان کچھ فاصلہ ہوگا پھر مسکرا کر کہتے کہ فاصلہ تو میرے دانتوں کے درمیان بھی ہے مگر پتہ نہیں خدا کو کیا منظور ہے۔آپ یہ باتیں اپنی خاص مجلسوں میں اپنے خاص خاص شاگردوں سے کیا کرتے تھے۔66 ( شہید مرحوم کے چشمد ید واقعات حصہ اول ص ۶) مولوی عبداللطیف صاحب کی شہادت کا درد ناک واقعہ : حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔