جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 538
538 میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام ” شیر علی“ ہے۔اس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی۔اور ہر بیماری اور کو تاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفانور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنادیا ہے اور یہ عمل کر کے پھر وہ شخص غائب ہو گیا اور میں اس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہو گیا۔‘ ( تریاق القلوب صفحہ ۹۹۵) خدمات سلسلہ : آپ کی خدمات سلسلہ ہر نوع کی ہیں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے اور آپ نے ریویو آف ریلیجنز کی ادارت کے فرائض بھی سر انجام دیئے اور نظارت تالیف میں آپ عرصہ تک بطور ناظر کام کرتے رہے۔آپ کا ہر کام ہی ایک شاندار کام تھا۔مگر آپ کا آخری اور سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ للہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کے مکمل کرنے کی توفیق ملی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی جب کبھی سفر پر جاتے تو عموماً امیر مقامی اپنے بعد حضرت مولانا مرحوم کو ہی مقررفرماتے تھے۔چنانچہ ۱۹۲۴ء کے سفر یورپ میں بھی حضرت مولوی صاحب ہی امیر مقامی مقرر ہوئے تھے حضرت مولوی صاحب کی علمی قابلیت اور اخلاص کا اندازہ حضرت مصلح موعود کے اس اقتباس سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۱۹۲۶ء کے جلسہ سالانہ میں جہاں سلسلہ احمدیہ کے بعض ناظروں کی قربانیوں کا ذکر فرمایا وہاں حضرت مولوی شیر علی صاحب کے متعلق ذیل کے الفاظ ارشاد فرمائے۔پھر مولوی شیر علی صاحب ہیں ان کو اب ۲۰۰ روپیہ ملتے ہیں۔ایک تو ان کی انگریزی کی قابلیت وہ چیز ہے جو اردو میں نہیں۔اس کے علاوہ یہ قابلیت ان میں ہے کہ وہ مضمون پر حاوی ہو جاتے ہیں ان کے مضمون پڑھنے والے دوستوں نے دیکھا ہوگا کہ وہ کس طرح مضمون کی باریکیوں تک جا پہنچتے ہیں اور کوئی پہلو اس کا باقی نہیں چھوڑتے پھر جب وہ یہاں ملازم ہوئے ہیں ان کا نام منصفی کیلئے جا چکا تھا۔“ (الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۲۷ء) وفات و تدفین حضرت مولانا شیر علی صاحب مورخه ۱۳ نومبر ۱۹۴۷ء کو لاہور میں وفات پا کر اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں اور ہمیشہ کیلئے اپنی نیک یادیں اور پاک نمونہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔( استفاده از نجم الہدی سوانح حضرت مولانا شیر علی صاحب مرتبہ رقیه بیگم بقا پوری صاحبہ )