جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 532
532 بیعت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر ۳/ جنوری ۱۸۹۲ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۱۸۷ نمبر پر درج ہے۔خدمت خلق : لاہور اور آگرہ کے میڈیکل کالج میں پروفیسر رہے۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان آگئے تھے اور نور ہسپتال میں کئی سال تک انچارج کے طور پر کام کیا۔آپ اپنے پیشہ سے اس قدر مخلص تھے کہ ایک دفعہ رات بارہ بجے ایک شخص اپنی بیوی کی تشویشناک حالت کے لئے دوائی لینے آیا آپ اس کی کیفیت کے پیش نظر اس کے ساتھ ہو لئے۔خود دوائی دی اور بتایا کہ اسے ایک گھنٹے بعد دوبارہ دورہ پڑے گا۔باہر کہیں جانوروں کی جگہ انتظار کرتے رہے ٹھیک گھنٹہ بعد دوبارہ دوائی دینے کے لئے گئے۔اس وقت خاتون کی حالت خراب تھی۔آپ نے دوائی دی اور اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم فرمایا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام، سراج منیر، کتاب البریہ، تحفہ قیصریہ میں اپنے مخلصین چندہ دہندگان اور جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے والوں میں کیا ہے۔حضرت اقدس نے آپ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے۔ان میں اہلیت اور زیر کی بہت ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ ان میں نور فراست بھی ہے۔“ آپ کی بڑی بیٹی رشیدہ المعروف محمودہ بیگم صاحبہ کی شادی ۱۹۰۳ء میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ہوئی۔جو بعد میں ام ناصر کے نام سے معروف ہوئیں۔”اب ان کو قربانی کی ضرورت نہیں : سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی امصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی قربانی کے بارہ میں ۱۹۲۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا:۔اُن کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب ( بانی سلسلہ احمدیہ ) نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی سخت ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں کو تحریک کی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔لنگر خانہ تو دو جگہ پر ہو گیا ہے۔ایک قادیان میں اور دوسرا گورداسپور میں۔اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہو رہا ہے۔لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ تقریباً ۴۵۰ رو پے ملی تھی وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضور کی خدمت میں بھیج دی۔ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ تو گھر کی