جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 533 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 533

533 ضروریات کے لئے رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح کہتا ہے کہ دین کے لئے ضرورت ہے۔تو پھر اور کس کے لئے رکھ سکتا ہوں۔غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب ان کو مالی قربانی کی ضرورت نہیں۔“ اولاد: آپ کے بیٹے بیٹیوں اور ان کی اولاد کی تعداد ۲۰۰ سے زائد ہے جو مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے۔آپ کی دوازدواج تھیں۔اہلیہ اول حضرت عمدہ بیگم سے نو بیٹے بیٹیاں تھیں۔جن میں سے حضرت رشیدہ بیگم (المعروف حضرت محمودہ بیگم شیده ام ناصر ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عقد میں آئیں۔کرنل تقی الدین اور مکرم خلیفہ علیم الدین صاحب انہی کی اولاد تھے۔اہلیہ ثانی حضرت مراد خاتون سے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں محترم خلیفہ صلاح الدین صاحب اور خلیفہ منیر الدین صاحب ( پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء کے شہید ستارہ جرات ) ان کی اولاد تھے۔خلیفہ صلاح الدین مرحوم کے بیٹے خلیفہ صباح الدین مرحوم سابق نائب ناظر ضیافت، خلیفہ فلاح الدین اور خلیفہ رواح الدین لندن میں انہی کی نسل سے ہیں۔(ماخوذ از ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا ) - حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی۔ولادت : ۱۸۳۰ء۔بیعت : ۲۰ جولائی ۱۸۹۲ء۔وفات ۳۰ دسمبر ۱۹۰۵ء تعارف: حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام مولوی بین صاحب تھا۔آپ کی قوم لکھی تھی۔آپ للیانی نزد چک سند ر ضلع گجرات کے رہائشی تھے (بوریا نوالی میں زرعی زمین تھی) وہاں سے جہلم شہر میں آگئے جہاں آپ امام الصلوۃ تھے۔آپ پچیس سال کی عمر میں دہلی میں تشریف لے گئے۔ظاہری اور باطنی علم کی جستجو : آپ نے مولوی سید نذیر حسین دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا۔۱۸۵۶ء میں واپس جہلم آکر تحریک اہلحدیث کے پُر جوش کارکن کے طور پر کام کرتے رہے۔زبان میں بہت اثر تھا۔آپ طبیب بھی تھے۔لوگوں میں خاصی عزت و شہرت تھی۔جہلم ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں اہلحدیث مکتب فکر کے محرک تھے اور اس کی اشاعت کرتے رہے۔آپ کو ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علم کی بھی جستجو رہتی تھی ( کئی سال حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی کی صحبت سے فیض اٹھایا بعد ازاں حضرت پیر صاحب کوٹھہ شریف ” کی مریدی اختیار کی لیکن روحانی تسکین حاصل نہ ہو سکی۔حضرت اقدس سے تعلق اور بذریعہ الہام را ہنمائی: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ پڑھ کر زیارت کا شوق پیدا ہوا اور یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ شخص آئندہ کچھ بننے والا ہے اس لئے اسے دیکھنا