جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 531 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 531

531 حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ ۱۸۹۲ء میں شریک ہونے والوں میں نمبر ۶ پر نام درج ہے۔حضرت مصلح موعود سے تعلق : حضرت خلیفہ مسیح الثانی مصلح الموعود سے آپ کا تعلق استاد کی حیثیت سے تھا۔جس کا حضرت مصلح موعودؓ نے بھیرہ تشریف لے جانے پر یوں اظہار فرمایا:۔بھیرہ ، بھیرہ والوں کیلئے ایک اینٹوں اور گارے یا اینٹوں اور چونے کا بنا ہوا شہر نہیں۔بلکہ میرے استاد جنہوں نے مجھے نہایت محبت اور شفقت سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا اور بخاری کا بھی ترجمہ پڑھایا ان کا مولد ومسکن تھا۔بھیرہ والوں نے بھیرہ کی رہنے والی ماؤں کی چھاتیوں سے دودھ پیا ہے اور میں نے بھیرہ کی ایک بزرگ ہستی کی زبان سے قرآن کریم اور حدیث کا دودھ پیا۔پس بھیرہ والوں کی نگاہ میں جو قدر بھیرہ شہر کی ہے میری نگاہ میں اس کی اس سے بہت زیادہ قدر ہے۔“ (روز نامه الفضل ۲۹ رنومبر ۱۹۵۰ء) حضرت مولانا شمس صاحب نے آپ کا نام ان معاصر علماء میں شامل کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی تھی۔وفات: آپ نے ۲۴ راگست ۱۹۳۰ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔(ماخوذ از ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا ) ے۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ولادت: ۱۸۶۶ء۔بیعت : ۲ جنوری ۱۸۹۲ء۔وفات: یکم جولائی ۱۹۲۶ء تعارف: حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین رضی اللہ عنہ کا حسب ونسب حضرت ابو بکر سے جاملتا ہے۔یہ خاندان خلیفہ بدیع الدین کی سرکردگی میں ہندوستان آیا خاندان کا کچھ حصہ مبئی میں اور باقی کا لا ہور ٹھہرا۔آپ کے والد ماجد خلیفہ حمید الدین صاحب انجمن حمایت اسلام لاہور کے بانیوں میں سے تھے۔خلیفہ حمید الدین صاحب کی رہائش اندرون موچی گیٹ لاہور تھی۔آپ ہی کے وقت انجمن حمایت اسلام کے تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔آپ انجمن کے صدر رہے۔وفات کے بعد آپ کو اسلامیہ کالج لاہور میں دفن کیا گیا۔تعلیم : حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حافظ قرآن تھے۔سکول کی تعلیم کے بعد آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم پائی۔اس خاندان کی خصوصیت یہ تھی کہ سب لڑکے اور لڑکیاں حافظ قرآن تھے۔آپ نے زمانہ طالب علمی میں ینگ مین محمدن ایسوسی ایشن کی بنیا درکھی۔