جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 530
530 میں ہوئی۔آپ کی ازدواجی زندگی : آپ نے تین شادیاں کیں لیکن آپ کے ہاں اولا د نہ تھی۔وفات: آپ کی وفات ۱۸ اپریل ۱۹۱۰ء کو دوران سفر لاہور میں ہوئی اور تدفین بہشتی مقبرہ قادیان (ماخوذ اخذ ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا) -۶۔حضرت قاضی امیر حسین صاحب بھیروی ولات: ۱۸۴۸ ء - بیعت : مئی ۱۸۹۳ء۔وفات: ۲۴ / اگست ۱۹۳۰ء تعارف : حضرت قاضی امیر حسین رضی اللہ عنہ بخاری سید تھے۔مغلوں کے عہد میں آپ کے آباء کو قاضی کا جلیل القدر عہدہ ملا تھا۔حصول تعلیم کا آغاز جوانی کے عالم میں ہوا۔اس سے قبل اپنے والد صاحب کے ساتھ گھوڑوں کی تجارت کرتے تھے۔سہارن پور کے مدرسہ مظہر العلوم سے تعلیم کی تکمیل کی۔جب واپس بھیرہ تشریف لائے تو محلہ قاضیاں میں اپنی خاندانی مسجد میں حدیث کا درس دیا کرتے تھے۔حضرت خلیفتہ امسح الاول سے تعلق حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ ان دنوں بھیرہ میں تھے اور ان کی سخت مخالفت ہو رہی تھی۔انہی دنوں آپ کی شادی حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب کی بھانجی سے ہوئی تھی۔آپ نے مدرستہ المسلمین امرتسر میں ملازمت کا آغاز کیا۔بیعت: مئی ۱۸۹۳ء میں جنگ مقدس (مباحثہ پادری عبد اللہ آتھم ) امرتسر کے دوسرے روز آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ میری دعوت منظور فرماویں حضرت نے آپ کی دعوت کو حضرت شیخ نوراحمد صاحب کی منظوری پر رکھا۔حضرت قاضی صاحب نے دعوت کی حضرت اقدس نے منظوری دے دی۔اس دعوت کے بعد حضرت قاضی صاحب نے بیعت کر لی۔دینی خدمات: آپ امرتسر سے ملازمت چھوڑ کر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان آگئے۔آپ کے شاگردوں میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد (خلیفہ مسیح الثانی) اور حضرت میر محمد الحق شامل تھے۔”جہیر الصوت‘ ہونے کے باوجود کلام الہی کی تلاوت آہستہ آہستہ کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول آپ کی قرآن نہی کی اکثر داد دیتے تھے اور ان کے قرآنی نکات کی قدر کرتے تھے۔آپ حضرت مسیح موعود کے عشق و محبت اور آپ کی اطاعت میں گداز تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو خدا تعالیٰ کی ایک آیت رحمت یقین کرتے تھے۔آپ کے تلامذہ میں سے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ کے بعض علمی مضامین الحکم اور الفضل میں شائع ہوتے رہے۔