جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 528 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 528

528 آپ کی نسبت الہام حضرت اقدس : حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسبت ایک الہام میں حجتہ اللہ کے نام سے یاد فرمایا۔حضرت اقدس نے کتاب من الرحمن میں اشتراک السنہ میں جاں فشانی کرنے والے مردان خدا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کا ذکر بھی فرمایا ہے۔(نوٹ ) آپ کے تفصیلی حالات کا ذکر ”سیرت حضرت نواب محمد علی خاں صاحب مصنفہ محترم ملک صلاح الدین مرحوم میں ہے۔(بحواله ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا ۸۶-۸۷) ۵- حضرت مولوی حاجی حافظ حکیم فضل دین صاحب بھیروی ولادت: ۱۸۴۲ء۔بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات: ۸/اپریل ۱۹۱۰ء تعارف : حضرت حکیم مولوی فضل دین صاحب رضی اللہ عنہ بھیرہ کی ایک معزز خواجہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے جو حضرت مولانا نورالدین صاحب (خلیفہ امسیح الاول) کے بچپن کے دوست تھے۔آپ اکثر حضور کی خدمت میں قادیان حاضر ہوتے تھے۔بیعت : آپ کی بیعت ۱۸۹۱ء کی ہے کیونکہ ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت آپ کے صدق و اخلاص اور مالی قربانی کا ذکر ہے۔آپ کی ہر دو زوجہ نے بیعت کی۔آپ کی اہلیہ حضرت فاطمہ صاحبہ کی بیعت کا اندراج رجسٹر بیعت میں ۰۳ انمبر پر ہے۔آپ کی دوسری زوجہ حضرت مریم بی بی صاحبہ تھیں۔خدمات دینیہ اور تعلق محبت : آپ سلسلہ کی خدمت دل کھول کر کرتے تھے۔آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود کی خوشنودی حاصل تھی۔ایک روز حکیم فضل الدین صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود سے عرض کیا کہ یہاں میں نکما بیٹھا کیا کرتا ہوں مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں وہاں درس قرآن کروں گا یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت ہوحضور نے فرمایا آپ کا بیکار بیٹھنا بھی جہاد ہے اور یہ بے کاری ہی بڑا کام ہے۔غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا یہ عذر کرنے والے وہی ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حضور میں عذر کیا تھا۔اِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَة اور خدا تعالیٰ نے ان کی تکذیب کر دی۔قادیان میں آپ نے مطبع ضیاء الاسلام قائم کیا جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتا بیں چھپتی تھیں۔اس کے علاوہ مدرسہ احمدیہ کے سپرنٹنڈنٹ اور کتب خانہ حضرت مسیح موعود کے مہتم اور لنگر خانہ