جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 527 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 527

527 ۴۔حضرت سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ولادت یکم جنوری ۱۸۷۰ء۔بیعت ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء۔وفات، افروری ۱۹۴۵ء تعارف: حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ کے مورث اعلیٰ شیخ صدرالدین جلال آباد کے باشندہ تھے۔شیروانی قوم کے پٹھان تھے جو ۱۴۶۹ء میں سلطنت بہلول لودھی کے زمانہ میں اپنے وطن سے ہندوستان میں آئے اور ایک قصبہ آباد کیا جس کا نام مالیر کوٹلہ ہے۔آپ کے والد ماجد کا نام نواب غلام محمد خاں صاحب تھا۔تعلیم: ابتدائی تعلیم چیفس کالج (انبالہ و لا ہور) سے حاصل کی۔آپ ۱۸۸۷ء سے ۱۸۹۴ء تک محمدن ایجوکیشنل کانفرنس سے وابستہ رہے۔اور آپ نے علی گڑھ کے مشہور سٹریجی ہال کی تعمیر میں پانچ صد و پہیہ چندہ دیا۔حضرت اقدس سے تعلق اور بیعت : حضرت اقدس مسیح موعود سے خط و کتابت کا آغاز آپ کے استاد مولوی عبداللہ نخری کاندھلوی ( بیعت ہ مئی ۱۸۸۹ء) کی تحریک سے ہوا۔حضرت نواب صاحب اپنے ایک خط میں حضرت اقدس مسیح موعود کو لکھتے ہیں۔ابتداء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں۔بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لودیا نہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو ایک با خدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کو بعد کی خط و کتابت نے میرے دل سے بلکلی دھویا اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسرشان کرے سلسلہ میں داخل ہوسکتا ہے۔تب میں نے آپ کی بیعت کرلی۔66 بیعت: رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۲۱۰ نمبر پر درج ہے۔آپ نے ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء کو حضرت اقدس کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضرت اقدس سے رشتہ دامادی: آپ کے گھر روحانی بادشاہ کی بیٹی آئی اور آپ کا نکاح حضرت مسیح الزمان و مہدی دوراں کی مقدس صاحبزادی حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ سے ہوا۔